1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

زبان کی لکنت کی وجہ جینز میں پایا جانے والا نقص

زبان میں لکنت کوئی نفسیاتی یا سماجی بیماری نہیں۔سائنسدانوں کی ایک تحقیقی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ زبان کی لکنت کی وجہ تین مختلف جینز میں پایا جانے والا نقص بنتا ہے-

default

زبان میں لکنت یعنی بولنے میں دشواری ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجوہات معلوم کرنے کے لئے ماہرین صدیوں سے ریسرچ کر رہے ہیں- دنیا بھر میں لاکھوں انسان لکنت کا شکار ہیں جو ان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتی ہے- حال ہی میں سائنسدانوں کی ایک تحقیقی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ زبان کی لکنت کی وجہ تین مختلف جینز میں پایا جانے والا نقص بنتا ہے-

23.08.2007 glaubenssache behinderter junge

معذوری کسی بھی نوعیت کی ہو معاشرے پر بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونی والی اس رپورٹ کے ایک سینیئر مصنف اور جینز کے بارے میں ریسرچ کرنے والے محقق Dennis Drayna کے بقول ہزاروں سال سے ہکلاہٹ یا زبان میں لکنت کے اسباب کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں، اب ہمیں کم از کم اس بیماری کی چند وجوہات کا پتا چل گیا ہے٬ - Drayna کا تعلق National Institut on Deafness and other communication Disorders (NIDCD) سے منسلک سائنسدانوں کی ایک ٹیم سے ہے- اس ٹیم نے ہکلاہٹ کے شکار 123 پاکستانیوں کے جینز کا جائزہ لیا جبکہ 96 ایسے پاکستانی باشندوں کے جینز پر تحقیق کی گئی جو لکنت کا شکار نہیں ہیں-

Bilder von Die Schlumper, einer Gruppe geistig behinderter Künstler aus Hamburg

زہتی طور پر معذور افراد کی تربیت کے ذریعے انہیں کوئی فن سکھایا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 550 افراد کے جینز کا معائنہ بھی کیا گیا جن میں سے نصف زبان کی لکنت کا شکار تھے اور دیگر افراد کو ایسی کوئی شکایت نہیں تھی- اس سائنسی تحقیق میں جن پاکستانیوں کو شامل کیا گیا تھا ان پر ماضی میں بھی اسی قسم کی ایک اور ریسرچ کی گئی تھی- نئی تحقیق سے پتا چلا کہ ان افراد کے جینز کے اندر Mutation یا ان کے ڈی این اے کی کیمیائی ترکیب میں تبدیلی رونما ہوئی ہے جسے GNPTAB کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ ان کے دو دیگر جینز GNPTG اور NAGPA جینز میں بھی یہ تبدیلی پیدا ہوئی ہے- وہ افراد جن کی زبان میں لکنت یا ہکلاہٹ نہیں پائی گئی، ان کے اندر جینز Mutation یا ان کے ڈی این اے کی کیمیائی ترکیب میں تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی-

DNA Test

جینز ٹیسٹ کے ذریعے ڈی این اے کی کیمیائی ترکیب میں تبدیلی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

انسانی جسم کے دو اہم جینز GNPTAB اور GNPTG کے ڈی این اے کی کیمیائی ترکیب میں تبدیلی رونما ہونے کا عمل دراصل Mucolipidosis نامی ایک غیر معمولی بیماری کی کلیدی وجہ بنتا ہے- اس میں تنفس کی نالیوں میں موجود رطوبتوں میں تبدیلی کے سبب قلب، جگر، تلی اور دماغی موٹر کے نظام میں نقص پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ ہی عرصے میں یہ بیماری گویائی سے متعلق گوناگوں مسائل کا سبب بنتی ہے، یہاں تک کہ انسان کی زبان میں لکنت یا ہکلاہٹ آ جاتی ہے- Institute on Deafness and other communication Disorders (NIDCD) کے ڈائریکٹر James Bettey کا کہنا ہے کہ انسانوں کے اندر پائے جانے والے مذکورہ جینز Mutation یا ان کے ڈی این اے کی کیمیائی ترکیب میں تبدیلی سے متعلق یہ تازہ ترین رسرچ نہ صرف اپنی طرز کی پہلی اور انوکھی تحقیق ہے بلکہ اس سے زبان کی لکنت یا ہکلاہٹ کی بیماری کے علاج میں بھی بہت مدد ملے گی- ماہرین کے مطابق مستقبل میں لکنت کی بیماری میں مبتلا انسانوں کے اندر ایک خاص قسم کے Enzyme کی تبدیلی کے ذریعے اس عارضے کا علاج کیا جا سکے گا-

Kinder mit körperlichen Behinderungen in Bhopal

جنوبی ایشیا میں لاتعداد بچے جین کے نقص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

ہکلاہٹ یا Stuttering Foundation کی صدر Jane Fraser کا کہنا ہے: ہمیں ہر روز ہکلاہٹ کے شکار بچوں کے سینکڑوں والدین کے فون آتے ہیں، جو یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کی زبان میں لکنت کی وجہ خود ان والدین کی کوئی غلط حکمت عملی یا رویہ تو نہیں۔ ماہرین نے واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ زبان کی لکنت ایک حیاتیاتی نقص ہے- تاہم Jane Fraser نے کہا ہے کہ جین تھراپی کے ذریعے ہکلاہٹ کے علاج میں کافی وقت لگے گا اور تب تک معالجوں کو پرانے طریقہ علاج کو ہی جاری رکھنا پڑے گا-

Vaterschaftstest im Genlabor p178

شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا ڈی این اے ٹیسٹ بہت سی پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کا سینٹرآف ایکسیلنس اِن مولیکیولرباؤلوجی ، ورجینیا کے Hollins Communications research Institute اور Institut on Deafness and other communication Disorders (NIDCD) کے علاوہ دیگر تحقیقی ادارے بھی امریکہ کے نیشتل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کا حصہ ہیں اور ان سب نے مل کر اس نئی ریسرچ کے لئے کام کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے سینٹرآف ایکسیلنس اِن مولیکیولرباؤلوجی کے بانی اور معروف پاکستانی سائنسداں ڈاکٹر ریاض الدین کے مطابق ان کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں جینزسے متعلق نت نئی ریسرچ کے علاوہ وہ تمام ٹیسٹس مفت کئے جاتےہیں جن کے نتائج کا پہلے سے علم ہو جائے تو بہت سے خاندانوں میں بیمار یا معذور بچوں کی پیدائش سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹرریاض الدین سے رابطہ کرنے کے لئے انکا نمبر ہے 03218429448 ۔

رپورٹ کشور مصطفیٰ

ادارت مقبول ملک

Audios and videos on the topic