1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زاویہ شہر دوبارہ کرنل قذافی کے کنٹرول میں

معمر قذافی کی حامی فورسز نے طرابلس کے قریب واقع شہر زاویہ کا شدید لڑائی کے بعد دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ باغیوں کے خلاف ٹینکوں سمیت آرٹلری کا استعمال کیا گیا ہے۔

default

زاویہ کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے، ’’ زاویہ شہر پر قذافی کی حامی فورسز مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔‘‘ اس شہری کا مزید کہنا ہے، ’’ باغیوں اور فورسز کے درمیان لڑائی گزشتہ رات ختم ہو گئی تھی اور آج صورتحال معمول پر ہے۔‘‘ زاویہ شہر دارالحکومت طرابلس سے 50 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ باغیوں کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔

دوسری جانب بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں جمعرات کو یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اہم اجلاس منعقد ہو رہے ہیں، جن میں خانہ جنگی کی لپیٹ میں آئے ہوئے مشرقی افریقی ملک لیبیا کے تازہ حالات پر تبادلہء خیال کیا جا رہا ہے۔

پہلے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں 27 رکنی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ مل بیٹھیں گے۔ اِس کے فوراً بعد 28 رکنی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وُزرائے خارجہ اور وُزرائے دفاع کے مذاکرات ہوں گے، جن میں قذافی حکومت کے خلاف زیادہ سخت پابندیوں کے فیصلے کیے جائیں گے۔ اِن پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ لیبیا سے خریدے گئے تیل کی ادائیگیاں روک دینا بھی شامل ہے۔ قذافی کو قانونی کارروائی سے حاصل تحفظ بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اِس طرح وہ اُس قانونی تحفظ سے محروم ہو جائیں گے، جو عموماً سربراہانِ مملکت کے حصے میں آتا ہے۔

NO FLASH EU-Parlament tagt zu Libyen

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اُس کے یورپی حلیف لیبیا تک امدادی سامان پہنچانے اور اسلحے کی فراہمی کی پابندی کی نگرانی کے لیے بحری جہاز حرکت میں لانے پر غور کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جمعہ کو مجوزہ یونین کے سربراہ اجلاس کے لیے کی جانے والی تیاریوں کا ایک حصہ ہے۔ اِس سربراہ اجلاس میں بحیرہء روم سے جنوب کی طرف واقع ممالک کے لیے ایک امدادی پیکیج کی منظوری عمل میں آئے گی۔

سفارتکاروں کے مطابق وزرائے دفاع کے اجلاس میں نو فلائی زون پر نہیں بلکہ لیبیا میں ممکنہ فوجی مداخلت کے امکانات پر تبادلہء خیال کیا جائے گا۔ ایسے کسی بھی امکان کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے ’واضح اختیارات‘ کو خاص طور پر اہمیت دی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ متعلقہ خطے کی جانب سے بھی کسی فوجی مداخلت کے لیے ’مستحکم حمایت‘ ظاہر کی جانی چاہیے۔

پرتگال کے وزیر خارجہ لوئی امادو نے یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد معمر قذافی کی جانب سے روانہ کیے گئے ایک خصوصی ایلچی سے ملاقات کی ہے۔ اِس ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔ واضح رہے کہ پرتگال اقوام متحدہ کی اُس کمیٹی کی قیادت کر رہا ہے، جو قذافی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کو عملی شکل دینے سے متعلق جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

مصری قیادت کے لیے قذافی کا ایک پیغام لے کر قاہرہ جانے والے جنرل عبدالرحمان الزاوی وہاں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ سے بھی ملاقات کریں گے۔ عرب لیگ کے ہفتہ کے روز کے لیے مجوزہ ایک اجلاس میں لیبیا کے لیے نو فلائی زون کے امکانات پر غور کیا جانے والا ہے۔

دریں اثناء لیبیا کی حکومت نے قذافی کے حریف مصطفیٰ عبدالجلیل کو پکڑنے والے کے لیے پانچ لاکھ دینار (تین لاکھ یورو)کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ دو لاکھ دینار اُس شخص کو مل سکتے ہیں، جو ایسی معلومات فراہم کر سکتا ہو، جن کے نتیجے میں قذافی حکومت کے اِس سابق وزیر انصاف کو گرفتار کیا جا سکے۔

آج جمعرات کو فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی لیبیا کی اپوزیشن کی طرف سے تشکیل دی گئی قومی کونسل کے دو نمائندوں کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ پیرس میں صدارتی محل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ محمود جبریل اور علی عیساوی کے ساتھ ملاقاتوں میں خاص طور پر لیبیا میں شہریوں کو درپیش حالات پر بات کی جائے گی۔

Libyen Fernsehrede von Muammar Gaddafi in Tripolis

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

اِسی دوران لیبیا کے اندر خونریزی کا سلسلہ جاری ہے۔ راس لانوف کے آس پاس نئی جھڑپوں میں کم از کم چار افراد مارے گئے ہیں۔ باغیوں کے بیانات کے مطابق السدرہ کی تیل کی بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ قذافی نے ملکی ٹیلی وژن پر آ کر باغیوں اور مغربی دُنیا کو برا بھلا کہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اُس کی ایک نیوز ٹیم کے تین رپورٹرز کو حراست میں رکھا گیا اور قذافی کے حامی سپاہیوں کی جانب سے زدوکوب بھی کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ رپورٹر طرابلس سے مغرب کی جانب واقع شہر زاویہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اُنہیں ایک فوجی نگرانی چوکی پر روک لیا گیا۔ پھر اُنہیں ایک فوجی مرکز پر لے جایا گیا، جہاں اُن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں، اُنہیں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں اور اُنہیں مارا پیٹا گیا۔ تاہم بعدازاں انہیں چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM