1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بن گئے

ری پبلکن ساستدان ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کی دوپہر واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب میں حلف اٹھانے کے بعد امریکا کے پینتالیسویں صدر بن گئے ہیں۔ اس موقع پران کی مخالفت اور حق میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

ارب پتی کاروباری شخصیت اور ری پبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے آج بیس جنوری کو اپنے منصب کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اُن کی حلف برداری کے ساتھ ہی باراک اوباما بطور امریکی صدر سبکدوش ہو گئے ہیں۔  ٹرمپ سے حلف امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لیا۔ اندازوں کے مطابق اس تقریب میں شرکت کے لیے تقریباﹰ نوے ہزار افراد نیشنل مال پر موجود تھے۔

 ٹرمپ کے ہزاروں حامی گزشتہ روز ہی واشنگٹن میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ اس موقع پر امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کے پلیٹ فارم سے گزشتہ برس ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں صدر باراک اوباما سمیت ان کی حریف امیدوار ہلیری کلنٹن نے بھی شرکت کی۔

USA Amtsübernahme Trump und Obama (Reuters/C. Barria)

ونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں صدر باراک اوباما سمیت ان کی حریف امیدوار ہلیری کلنٹن نے بھی شرکت کی

حق اور مخالفت میں مظاہرے

واشنگٹن میں پولیس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری سے قبل شہر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ وہاں مظاہرین کی جانب سے  پتھر اؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کچھ عمارتوں کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں۔

تاہم اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی مخالفت اور حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں دریائے ٹیمز کے نو مختلف پُلوں پر احتجاج کیا گیا۔ ان مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر ’’پُل تعمیر کرو ناکہ دیواریں‘‘ اور ’’اسلام فوبیا کے خلاف متحد‘‘ ایسے نعرے درج تھے۔

اسی طرح فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں قائم امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ان مظاہرین نے بھی ٹرمپ مخالف نعرے لگاتے ہوئے ملک سے تمام امریکی فوجیوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا۔

USA Amtsübernahme Trump (Reuters/B. Snyder)

اندازوں کے مطابق اس تقریب میں شرکت کے لیے تقریباﹰ نوے ہزار افراد نیشنل مال پر موجود تھے

اس سے پہلے سری لنکا میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور مختلف گروپوں نے امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا۔ ان افراد نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ان سابقہ بیانات کی مذمت کی، جو انہوں نے ماحولیات، جنگ اور مہاجرین کے متعلق دے رکھے ہیں۔

لیکن بہت سے گروپوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا آج خیرمقدم کیا ہے۔ سری لنکا کی بدھ مت تنظیموں نے اخبار کے ایک مکمل صفحے پر مشتمل ڈونلڈ ٹرمپ کا اشتہار دیا ہے، جس میں ان کی عمر درازی کے لیے دعا کی گئی ہے۔

اسی طرح بھارت کی دائیں بازو کی جماعت ’ہندو سینا‘ نے بھی ٹرمپ کی تقریب حلف برداری پر خوشیاں منانے کا اعلان کیا۔ اس جماعت نے ٹرمپ کو ’دنیا کا بادشاہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس دنیا سے اسلامسٹ انتہاپسندوں کا خاتمہ کر دیں گے۔

یورپی ملک ہنگری میں مہاجرین مخالف قوم پرست وزیراعظم وکٹور اوربان نے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے حوالے سے ایک اسٹریٹ پارٹی کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔