1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ری پبلکن صدارتی امیدوار کے بیان کا تنازعہ

امریکی صدارتی امیدوار نیوٹ گینگریچ کے فلسطینیوں کو ایجاد کی گئی قوم کا نام دینے سے متعلق بیان نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ صدر باراک اوباما کے مخالف یہ ری پبلکن امیدوار امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔

default

گینگریچ کا یہ بیان اب تک کسی بھی ری پبلکن صدارتی امیدوار کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے معاملے سے متعلق سخت ترین بیان ہے۔ امریکہ کے ایک یہودی ٹیلی وژن چینل کے ساتھ اپنے انٹرویو میں نیوٹ گینگریچ نے کہا کہ فلسطین ماضی میں کوئی ایک ریاست تھا ہی نہیں بلکہ عثمانیہ سلطنت کا حصہ تھی۔ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی تاریخی طور پر عرب معاشرے کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ میں یہودی شہریوں کے ووٹ 2012ء کے صدارتی انتخاب کے لیے خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔ بعض ناقدین کے خیال میں گینگریچ نے یہ بیان مشرق وسطیٰ کے دو ریاستی حل سے متعلق اپنی مخالفت واضح کرنے کے لیے دیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا، ’’ان (فلسطینیوں) کے پاس کئی جگہوں پر جانے کے مواقع تھے، کئی سیاسی مصلحتوں کے سبب ہم 1940ء سے اسرائیل کے خلاف یہ جنگ برداشت کر رہے ہیں اور میرے خیال میں یہ افسوسناک ہے۔‘‘

Newt Gingrich

نیوٹ گینگریچ

صدر باراک اوباما کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے گینگریچ نے اسرائیلی ریاست کو اپنے غیر متزلزل تعاون کا یقین دلایا۔ اس انٹرویو کے کچھ ہی دیر بعد گینگریچ کی صدارتی مہم چلانے والوں نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔ اس میں کہا گیا کہ گینگریچ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کے مخالف نہیں۔ ان کے ترجمان آر سی ہامنڈ کے مطابق گینگریچ مشرق وسطیٰ تنازعے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین مفاہمتی حل کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گینگریچ نے یہودی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں محض اسی مفاہمتی عمل سے متعلق تاریخی پس منظر اور حقائق کو اجاگر کیا ہے۔

فلسطینی قیادت نے گینگریچ کے اس بیان کو ناشائستہ، تکلیف دہ اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے اُن سے معافی مانگنے کا کہا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر سلام فیاض کے بقول گینگریچ نے مشرق وسطیٰ تنازعے کے خدوخال بیان کرنے کے لیے تاریخی حقائق کو ناقابل قبول حد تک مسخ کر کے پیش کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM