1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریڈ کراس کا وفد شمالی کوریا پہنچ گیا

کورین ریڈ کراس کا ایک وفد آج بدھ کے روز شمالی کوریا پہنچ گیا ہے، جہاں وہ پیانگ یانگ حکومت سے کوریائی سرحد کے دونوں جانب بٹے ہوئے خاندانون کے پھر سے ملاپ کی بات چیت کرے گا۔

default

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تناؤ سے عام کوریائی شہری متاثر ہوئے ہیں

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی سرحد کے دونوں جانب بٹے ہوئے خاندانون کے دوبارہ ملاپ کے لئے کورین ریڈ کراس نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ریڈ کراس کا ایک وفد شمالی کوریا کے تفریحی مقام ماؤنٹ گومگنگ پہنچا، جہاں وہ شمالی کوریائی حکام کے ساتھ بات چیت میں منقسم کوریائی خاندانوں کا ملاپ ممکن بنانےکی تفصیلات طے کرے گا۔

اس وفد کی سربراہی کوریائی ریڈ کراس کے کم یانگ چول کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کو انٹرویو دیتے کہا: ’’ ہمارے وفد کی پوری کوشش ہوگی کہ ملاپ کے اگلے دور میں زیادہ سے زیادہ بزرگ جنوبی کوریائی شہریوں کی شمالی کوریا میں اُن کے رشتے داروں سے ملاقات کروائی جا سکے۔‘‘

Verwandte der in Afghanistan Entführten beim Gebet

منقسم کوریائی خاندان اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لئے بے تاب ہیں

پیونگ یانگ نے دو سال قبل جنوبی کوریائی صدر لی میونگ باک کی سخت گیر پالیسیوں پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان خاندانوں کے ملاپ سے متعلق ریڈکراس کے کام کو روک دیا تھا۔ یہ خاندان پچاس کے عشرے کی کوریائی جنگ کے دوران ایک دوسرے سے جدا ہو گئے تھے۔

کوریائی ریڈ کراس کے مطابق چھ لاکھ کے قریب جنوبی کوریائی شہری ایسے ہیں، جن کے رشتے دار شمالی کوریا میں موجود ہیں۔ دونوں کوریائی ریاستوں میں کئی عشروں سے جاری تناؤ کے باعث ایک دوسرے سے بچھڑے ہوئے ان خاندانوں کا عام طور پر فون یا خط کے ذریعے بھی رابطہ ممکن نہیں ہوتا۔

مبصرین کے خیال میں شمالی کوریا کی طرف سےسے یہ نرمی دراصل اِس وجہ سے ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پیونگ یانگ پر امریکہ اور جنوبی کوریا کے دباؤ میں کمی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی کئی مبصرین شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی سخت ترین پابندیوں کو بھی شمالی کوریا کے لہجے میں تبدیلی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

شمالی کوریا نے چند دن قبل جنوبی کوریا کے سابق صدر اور امن کے نوبل انعام یافتہ آنجہانی کم دے جنگ کی آخری رسومات میں شرکت اور جنوبی کوریا سے تعزیت کے لئے بھی اپنا وفد سیول بھیجا تھا۔ اس اعلیٰ سطحی وفد نے جنوبی کوریا کے صدر سے بھی ملاقات کی تھی۔

امریکی مندوب برائے مشرقی ایشیا سٹیفن بوسورتھ ان دنوں جنوبی کوریا، چین اور جاپان کے دورے پر ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسی دوران وہ شمالی کوریا بھی جائیں گے۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: امجد علی