1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ریڈیو پاکستان اور مالی بحران

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کوآج کل شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔ بھاری اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم آمدنی کی وجہ سے ملک کے سب سے پرانے ریڈیوکوحکومتی امداد پرانحصار کرنا پڑتا ہے ۔

default

ملک کی 98 فیصد آبادی تک نشریات پہنچانے والے سرکاری ریڈیو ان دنوں شدید مالی پریشانیوں کا شکار ہے

ریڈیو کی مالی مشکلات کے اثرات اب ان کارکنوں تک بھی جا پہنچے ہیں جو اپنی تنخواہوں میں حکومت کی طرف سے اعلان کردہ اضافہ نہ کئے جانے اور متعدد الاؤنسزنہ ملنے کی وجہ سے احتجاجی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیوکے لئے کام کرنے والے کارکنوں نے منگل کے روز بھی اپنا احتجاج جاری رکھا۔ ادھر لاہور ریڈیواسٹیشن پربھی کارکنوں نے اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی، ریڈیو کی عمارت پر سیاہ بینرز لہرائے، احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ احتجاجی کارکن اس موقع پر ’’ہمارے مطالبات منظورکرو‘‘ اور ’’تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

اس موقع پر ریڈیو پاکستان لاہور کے کارکنوں کی منتخب یونین کے سیکریٹری جنرل محمود عباس نے بتایا کہ وہ عوامی حکومت سی اپیل کرتے ہیں کہ حکومت نے اپنے سالانہ وفاقی میزانیے میں سرکاری ملازمین کی 20 فیصد تنخواہیں بڑھانے کا جواعلان کیا تھا اس پرعمل کرتے ہوئے ریڈیو کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے کیونکہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین بھی اسی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جس میں باقی محکموں کے ملازمین پس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے مہینے بھی ریڈیو کے ملازمین کو ایک ہفتے کی تاخیر کے ساتھ 8 تاریخ کو تنخواہیں ملی تھیں جس کی وجہ سے ریڈیوکے ملازمین میں کافی بے چینی پھیل گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2007 سے کلیریکل سٹاف کی جو اپگریڈیشن ہوئی تھی، ایک سال گزرجانے کے بعد بھی ان کارکنوں کو ان کے واجبات نہیں مل سکے۔ انہوں نے میڈیکل الاؤنس اورانٹرٹینمنٹ الاؤنس کے حوالے سے بھی کارکنوں کی مشکلات دور کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریڈیو کے کارکنوں کے ایک اور رہنما زبیربشیرکا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے مختلف حصوں میں ریڈیو پاکستان کے ملازمین احتجاج کر رہے ہیں اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ریڈیوکے ملازمین کے مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک ریڈیوکے ایک اوراہلکارکا کہنا تھا کہ گزشتہ آمرانہ دوراگرچہ بہت بد ترین دورتھا لیکن اس میں بھی بجٹ کے دوران جو وعدے کئے جاتے تھے ان پر عمل درآمد ہوتا تھا لیکن اب جب کہ جمہوری حکومت آ چکی ہے ہم سمجھتے تھے کہ ارباب اقتدار ہماری بات زیادہ آسانی سے سن سکیں گے اور ہمارے مطالبے منظور ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ریڈیو کے ملازمین کی آواز سنی نہیں جا رہی بلکہ حکومت تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کے اس وعدے سے مکر رہی ہے جو اس نے سا ل2008 کے بجٹ سیشن کے دوران کیا تھا۔

بعض کارکنوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ریڈیو کا ڈائریکٹرجنرل سول سروس کا آدمی ہوتا ہے تو وفاقی محکمہ خزانہ کے افسران ریڈیوکے مالی مشکلات کے حوالے سے ہمدردانہ رویہ اپناتے ہیں لیکن جب بھی سول سروس سے باہر کے آدمی کو ریڈیو کا ڈائریکٹر جنرل بنایا جائے، وفاقی وزارت خزانہ کے افسران اسے ناکام بنانے کے لئے کئی قسم کے منفی حربے استعمال کرتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 21 سے زائد قومی اورعلاقائی زبانوں میں پیش کی جانے والی ریڈیو پاکستان کی نشریات 30 سے زائد ریڈیو اسٹیشنوں کے زریعے ملک کے تقریبا 80 فیصد علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ملک کی 98 فیصد آبادی تک نشریات پہنچانے والے سرکاری ریڈیو کے ان کارکنوں کو گلہ ہے کہ ان کی آواز کو اقتدار کے ایوانوں میں نہیں سنا جا رہا ہے۔