1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

'ریپ کا بدلہ ملزم کے بجائے اُسکی بہن سے لو‘

پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں میں مقامی پنچایت کے بیس ارکان کو گرفتار کیا ہے۔ اس پنچایت نے ایک شخص کو اپنی بہن کے ریپ کا بدلہ ملزم کی بہن سے زیادتی کر کے لینے کی ہدایت کی تھی۔

غیرت کے نام پر ایسے جرائم پاکستان کے بعض علاقوں میں اب بھی سننے کو ملتے ہیں۔ سترہ سالہ لڑکی جس کے ریپ کا حکم دیا گیا، اس شخص کی بہن ہے جس پر اس ماہ کے آغاز میں ایک تیرہ سالہ بچی کے ریپ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس سربراہ  سلیم خان نیازی نے منگل 25 جولائی کو جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ اُس سترہ سالہ لڑکی کو منگل کے روز ملتان شہر کے ایک قریبی علاقے میں ریپ کیا گیا۔ نیازی نے یہ بھی بتایا کہ ریپ کا حکم مقامی پنچایت نے اُس شخص کو سزا دینے کے لیے دیا جس نے مبینہ طور پر اسی گاؤں کی ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

ایسی مقامی کونسلوں یا پنچایتوں کو ملک میں رائج کمزور عدالتی نظام کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کے نزدیک منصفی کے مقامی سطح پر مروجہ اس نظام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تاہم دیہی سماج میں اسے قبولیت حاصل ہے۔

پولیس افسر نیازی نے بتایا کہ ریپ کا حکم دینے والے پنچایت کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن مرکزی ملزم فرار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کونسل کے باقی ممبران کی گرفتاری اور اُن پر دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کے شہر مظفر گڑھ میں سن 2002ء میں مختاراں مائی نامی ایک خاتون کے ساتھ بھی اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تھا، جو دنیا بھر میں شہ سرخیوں کا باعث بنا۔ مختاراں مائی اب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات