1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریپبلیکن صدارتی امیدواروں کی اوباما پر تنقید

امریکہ میں ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں نے اپنے پہلے بڑے نشریاتی مباحثے کو صدر باراک اوباما پر تنقید کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس دوران انہوں نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔

default

مٹ رومنی

یہ مباحثہ پیر کو نیو ہیمپشائر کے علاقے مانچسٹر میں ہوا۔ اس دوران ساتوں ریپبلیکن امیدواروں کے درمیان اختلافات واضح نہیں ہو سکے۔ اس کی بجائے انہوں نے معیشت اور خارجہ پالیسی پر اوباما کو ہدفِ تنقید بنایا۔

انہوں نے اوباما کے گزشتہ برس کے ہیلتھ کیئر سسٹم پر بھی تنقید کی اور اقتدار میں آنے کی صورت میں اس نظام کو منسوخ کرنے کا عندیہ دیا۔

امریکی ریاست Massachusetts کے سابق گورنر مِٹ رومنی فرنٹ رنر امیدوار بتائے جاتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انہیں تھوڑی لیکن مسلسل لیڈ حاصل ہے۔

اس مباحثے کے دوران انہوں نے کہا:’’اس اسٹیج پر کھڑا کوئی بھی فرد اوباما سے بہتر صدر ثابت ہو گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:’’صدر قیادت کیوں نہیں کر رہے؟ وہ ہمارا بجٹ متوازن نہیں بنا رہے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں کردار ادا نہیں کر رہے۔ انہوں نے امریکی عوام کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوبارہ منتخب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘

رومنی نے اوباما کی جانب سے پیش کیے گئے ہیلتھ کیئر سسٹم کو ’اوباما کیئر‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو یہ سسٹم منسوخ کر دیں گے۔

ریپبلیکن پارٹی کے ان سات صدارتی امیدوارں میں ایک خاتون Michele Bachmann بھی شامل ہیں، جن کا تعلق ٹی پارٹی سے ہے۔ مباحثے کے موقع پر انہوں نے بھی یہی کہا کہ صدر اوباما قیادت فراہم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

London Obama Rede Britisches Parlament

امریکی صدر باراک اوباما

سب امیدواروں نے یہ بھی کہا کہ وہ افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی قوم کی تعمیر و تشکیل امریکہ کا کام نہیں ہے۔

ان کی جماعت کے پہلے پرائمری انتخابات آئندہ برس فروری میں ہوں گے اور نیوہیمپشائر ہی وہ پہلی ریاست ہو گی، جہاں سے ریپبلیکن کے انتخابی مرحلے کا آغاز ہو گا۔ کسی بھی امیدوار کی جانب سے پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے لیے اس ریاست کے نتائج کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ صدارتی انتخابات آئندہ برس نومبر میں ہوں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس