ریپبلکن صدارتی امیدوار رومنی مشکل میں | معاشرہ | DW | 27.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ریپبلکن صدارتی امیدوار رومنی مشکل میں

مِٹ رومنی ری پبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار نامزد کیے جانے پر تو بہت خوش ہیں لیکن اپنی جماعت کے عام اراکین کی مکمل حمایت کے حصول کے لیے اُنہیں سخت محنت کرنا ہو گی۔

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مِٹ رومنی کو اپنی انتخابی مہم کے دوران پُر سکون نظر آنے میں نمایاں طور پر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ریاست نیو ہیمپشائر کے شہر مانچسٹر میں ایک انتخابی جلسے کے موقع پر اُن کا ایک پرستار یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا مرکزی امریکی بینک فیڈرل ریزرو کو زیادہ سختی کے ساتھ کنٹرول کرنے کا وقت نہیں آ گیا لیکن اس شخص کا سوال مکمل ہونے سے بھی پہلے رومنی نے ایک لطیفہ سنانا شروع کر دیا۔

اسی طرح ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے شہر چارلسٹن میں ایک ملٹری اکیڈمی میں اپنے خطاب کے دوران وہ کیڈٹوں کو ہنسانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ پھر اچانک ایک نوجوان نے اُن سے یہ پوچھ لیا کہ بیس بال کے ایک مشہور کھلاڑی کے بوسٹن رَیڈ سوکس کو چھوڑ کر نیویارک ینکیز میں چلے جانے کے بارے میں اُن کا کیا خیال ہے۔ رومنی نے مذاق کے طور پر جب یہ جملہ کہا کہ ’ہم سب ینکیز سے نفرت کرتے ہیں‘ تو سب لوگ حیران پریشان ہو گئے کیونکہ سوال پوچھنے والے نے نیویارک ینکیز کے نشان والی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

ایک تازہ سروے میں 70 فیصد امریکیوں نے اوباما کی جبکہ صرف 30 فیصد نے رومنی کی حمایت کی

ایک تازہ سروے میں 70 فیصد امریکیوں نے اوباما کی جبکہ صرف 30 فیصد نے رومنی کی حمایت کی

اِس طرح کے واقعات رومنی کی کمزوری کو نمایاں کرتے ہیں۔ اُنہیں بیزار کن اور متکبر خیال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام ووٹروں کے مسائل کا کوئی شعور نہیں رکھتے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں بھی اُن کے مقابلے میں اوباما کو امریکیوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کا زیادہ اہل مانا جاتا ہے۔ یو ایس ٹوڈے اور گیلپ کے ایک سروے میں 70 فیصد امریکیوں نے اوباما کے لیے جبکہ صرف 30 فیصد نے رومنی کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب رومنی کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ کاروباری اداروں کے بارے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ خود بھی کہتے ہیں:’’مَیں جانتا ہوں کہ ادارے کیسے قائم کیے جاتے ہیں، کیسے کامیاب یا ناکام ہوتے ہیں، وہ کیسے انسانوں کی زندگیاں بدل ڈالتے ہیں اور کیسے ہم روزگار کے مواقع سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘‘

جہاں رومنی فخر سے یہ کہتے ہیں کہ 1984ء میں اُنہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر قائم کیے گئے اپنے سرمایہ کار ادارے بین کیپیٹل کے ذریعے روزگار کے ایک لاکھ سے زیادہ مواقع پیدا کیے، وہاں باراک اوباما کی انتخابی ٹیم رومنی کو ملازمتوں کے موقع ختم کرنے والے ایک بے رحم انسان کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بین کیپیٹل کا کام ہی دیوالیہ ہو جانے والی فرمیں خریدنا اور اُن کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کر کے آگے انہیں منافع پر فروخت کر دینا تھا۔

رومنی نے 2010ء میں اپنی سالانہ آمدنی 21.6 ملین ڈالر بتائی تھی۔ وہ اپنے خلاف عائد کیے گئے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ کم ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں۔

مِٹ رومنی اپنی اہلیہ اَین کے ہمراہ

مِٹ رومنی اپنی اہلیہ اَین کے ہمراہ

رومنی عقیدے کے اعتبار سے مارمون مسیحی ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے قدامت پسند مسیحی اس بناء پر اُنہیں شک و شبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ منتخب ہو جانے کی صورت میں رومنی امریکا کے مارمون عقیدے والے پہلے صدر ہوں گے۔

رومنی کی ایک اور مشکل یہ ہے کہ وہ موجودہ صدر اوباما کی پالیسیوں کا کوئی متبادل پیش نہیں کر پا رہے۔ مثلاً افغانستان کے سلسلے میں رومنی یہ کہتے ہیں کہ وہ جلد از جلد سلامتی کی ذمے داریاں افغان فورسز کے حوالے کر کے امریکی فوجیوں کو وطن واپس لانا چاہیں گے لیکن ساتھ ساتھ وہاں اپنا مشن مکمل بھی کریں گے تاکہ یہ ملک پھر کبھی دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بن سکے۔ دیکھا جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اوباما بھی تو یہی کہتے ہیں۔

رومنی اور اوباما میں بنیادی فرق کا ذکر کرتے ہوئے رومنی خود کہتے ہیں:’’ایک ایسے صدر کے مقابلے میں، جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ حکومت ہوتی ہے، جو معیشت کو حرکت میں لاتی ہے اور ترقی دیتی ہے، مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آزادی اور آزاد انسان ہوتے ہیں، جو اقتصادیات کو آگے بڑھاتے ہیں۔‘‘ چھ نومبر کو انتخابات کے دن یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا امریکی عوام اوباما کی سماجی بھلائی کی ریاست کی حمایت کریں گے یا رومنی کے مسابقت کو فروغ دینے والے معاشرے کی۔

C. Bergmann/aa/km