1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریپبلکن جیتے، تو حکومتی اقدامات خطرے میں پڑ جائیں گے : اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر ایوانِ ن نمائندگان کے انتخابات میں ریپبلکن جماعت کو کامیابی حاصل ہوگئی، تو حکومتی ایجنڈا خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

default

اوباما کے اس بیان کو ڈیموکریٹس کے لئے انتخابات میں کامیابی کے لئے عوام کو تیار کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی جائزوں میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد مالیاتی حوالے سے صدر اوباما کے اقدامات سے خوش نہیں۔ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں ان کے خطاب کے دوران بھی وہاں موجود چند افراد نے صدر اوباما سے ایڈز کے خلاف عالمی سطح کے اقدامات کے لئے مزید فنڈ کے حق میں نعرے بازی کی۔ برج پورٹ شہر میں صدر اوباما نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ ڈیموکریٹس کے حامی اپنی جماعت کی کامیابی کے لئے ہر صورت میں اپنا ووٹ دیں۔

اس ویک اینڈ پر صدر اوباما ملک کی چار ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے پہنچے ہیں۔ تاہم عوامی جائزوں سے واضح ہے کہ ان کی جماعت ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر سینیٹ میں ڈیموکریٹس اراکین کی تعداد میں کمی کی صورت میں برآمد ہو گا۔ عوامی رائے عامہ کے مطابق ملکی اقتصادی صورت حال کی خرابی اور ملک میں بے روزگاری میں اضافے کے باعث امریکی عوام ڈیموکریٹس سے خاصے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔

Demokratin Nancy Pelosi ist neue Sprecherin des Repräsentantenhauses

ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پلوسی اپنے عہدے سے ہاتھ بھی دھو سکتی ہیں

امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا،’’جب تک آپ میں سے ہر ایک ووٹ نہیں دے گا، اگرآپ اپنے دوستوں اور اپنے خاندانوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ نہیں کریں گے، تو ہمیں ووٹوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور ہم نے اب تک دو برسوں میں جو پیش رفت کی ہے، وہ سب رائیگاں چلی جائے گی۔‘‘

ریپبلکن جماعت کی طرف سے اقتصادی صورتحال اور بے روزگاری کو موضوع بنا کر ڈیموکریٹس کے خلاف خاصی مؤثر انتخابی مہم چلائی گئی ہے۔ ریپبلکن جماعت اپنی انتخابی مہم میں صدر اوباما کی جانب سے منظور کروائے گئے 800 بلین ڈالر سے زائد کے مالیاتی پیکیج اور صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے کی اصلاحات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

دوسری طرف صدر اوباما کومتعدد لبرل حلقوں کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ان افراد کا مؤقف ہے کہ صدر اوباما نے عراق اور افغانستان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنے وعدے وفا نہیں کیے۔ ان حلقوں کی طرف سے گوانتاناموبے کے حراستی مرکز کی بندش کے حوالے سے بھی صدر اوباما کے عزائم میں کمی پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم میں جوش وخروش کی بھی خاصی کمی دکھائی دے رہی ہے اور وہ جذبہ ویسا ہر گز نہیں، جو سن 2008ء کے صدراتی انتخابات میں نظر آ رہا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس