1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ریٹیل سیکٹر میں اصلاحات: ملازمتوں کے ایک کروڑ مواقع پیدا ہوں گے، بھارت

بھارتی حکومت کے فیصلے کے بعد اب بین الاقوامی شہرت کے سپر اسٹور بھارتی شہروں میں کھولے جا سکیں گے۔ ملکی بزنس کمیونٹی نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک میں خوارک کی فراہمی کے نظام میں بہتری پیدا ہو گی۔

default

بھارت کے وزیر تجارت آنند شرما کے مطابق عالمی سپر مارکیٹوں یعنی وال مارٹ، ٹیسکو، Carrefour اور IKEA جیسی بڑی ریٹیل کمپنیوں کے اسٹورز کھلنے سے ملکی روزگار کی منڈی میں مزید بہتری پیدا ہو گی اور تقریباً ایک کروڑ افراد کو مناسب روزگار میسر ہو سکے گا۔ بھارتی وزیر کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے انتہائی تند و تیز تقاریر کا سامنا رہا۔

آنند شرما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان سپر اسٹورز کے بھارت میں کھلنے سے مجموعی طور پر عالمی رنگ میں رنگ جائے گا اور ملک میں کنزیومرازم کی مسابقتی فضا سے ملکی اسٹور بھی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے۔ حکومتی پلان پر عمل درآمد کے نتیجے میں پونے پانچ سو ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ ملک میں بڑی اقتصادی سرگرمی کو جنم دے گا۔

بھارتی کابینہ نے کئی بڑے بین الاقوامی اداروں پر مقامی اکاون فیصد حصص رکھنے کی پابندی بھی ختم کر دی ہے۔ بڑے بین الاقوامی ادارے سو فیصد حصص کے مالک ہو سکیں گے۔ اس کی وجہ سے اب گوچی، نوکیا اور ریباک جیسے بین الاقوامی اداروں کو فائدہ حاصل ہو سکے گا۔

نئی دہلی میں قائم کانگریس کی حکومت کو کئی پالیسی امور پر تعطلی کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ کرپشن اسکینڈلز ہیں ۔ مبصرین کے خیال میں حکومت اس فیصلے سے صورت حال میں اصلاحاتی عمل کو فعال بنانے کی کوشش میں ہے۔ دوسری جانب حکومتی فیصلے کے خلاف اپوزیشن خاصی آگ بگولا دکھائی دے رہی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر اوما بھارتی کا کہنا تھا کہ وہ وال مارٹ کے شو رومز کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگائیں گی۔ یہ امر اہم ہے کہ قدامت پسند جماعت بی

Hauptquartier der Lebensmittelkette Wal-Mart in Bentonville, Arkansas,

غیرملکی سپراسٹورز کو ملکی مارکیٹ تک رسائی دینے کے فیصلے پر ہر کوئی خوش نہیں ہے

جے پی نے اوما بھارتی کے بیان سے خود کو الگ رکھا ہے۔ اس مناسبت سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر مُرلی منوہر جوشی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اسٹورز کو آگ لگانے کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتی۔ جوشی کا مزید کہنا تھا کہ اس حکومتی فیصلے پر عوامی سطح پر غم و غصہ یقینی طور پر موجود ہے۔

حکومتی فیصلے سے بھارت کے مقامی اسٹورز میں پریشانی کی لہر پیدا ہو گئی ہے اور انہیں اس بات کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ بین الاقوامی سپر مارکیٹیں ان کے مقامی بزنس کو ہڑپ کر سکتی ہیں۔ مبصرین کے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بین الاقوامی سپر مارکیٹیں اپنا شرح منافع کم رکھ کر زیادہ صارفین کو اپنی جانب کھینچ سکیں گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس