1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریٹائرڈ جنرل فلِن قومی سلامتی کا اگلا مشیر بننے پر رضامند

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلِن نے نومنتخب امریکی صدر کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بننے کی پیشکش قبول کر لی ہے۔ امریکی فوج کے تھری اسٹار جنرل نے سن 2014 میں فوج کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ لی تھی۔

USA General Michael Flynn (picture-alliance/dpa/M. Reynolds)

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلِن

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلِن کو امریکی فوج میں غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ایک انٹیلیجنس افسر اور دوٹوک بات کرنے پر شہرت حاصل تھی۔ وہ فوج کی نوکری چھوڑنے کے بعد سے مسلسل اوباما انتظامیہ کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کے ناقد تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ امریکی فوجی ہیڈکوارٹرز پینٹاگون پر بھی تنقید کرتے تھے کہ بین الاقوامی اسٹریٹیجیک امور میں امریکا کو ہزیمت کا سامنا ہے۔
 اس سلسلے میں عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جاری امریکی پالیسی کو بھی انہوں نے ملکی سطح پر منعقد ہونے والے دفاعی اجلاسوں میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ رواں برس کے صدارتی الیکشن کے دوران ری پبلکن پارٹی کے اجلاس میں اوباما انتظامیہ پر گرجتے برستے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو کرش کرنے کے لیے جارحانہ امریکی پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔
اُن کی عسکری صلاحیتوں کے تناظر میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں اپنی حکومت کا انتہائی اہم منصب نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کا منصب سنبھالنے کی پیشکش کی تو انہوں نے اس کو منظور کر لیا ہے۔ اس طرح امریکا کا اگلا قومی سلامتی کا مشیر ایک تجربہ کار فوجی افسر ہو گا۔

USA Trump startet eigene Wodka Marke (picture-alliance/dpa/W. Gratz)

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ہمراہ

 امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریٹائرڈ جنرل اس منصب کے لیے سب سے اہم امیدوار بن کر ابھرے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں دفاع اور خارجہ امور پر مائیکل فلن ہی انہیں مشورے دیتے تھے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ریٹائرڈ جنرل فلِن کا فوجی تجربہ یقینی طور پر اُن کے حق میں جاتا ہے کہ وہ پینٹاگون کی سربراہی یعنی وزارت دفاع کا منصب سنبھال لیں لیکن اُن کو چند مشکلات کا سامنا ہے اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ فوج کی نوکری چھوڑنے کے سات برس بعد ہی وہ وزیر دفاع بنائے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں کانگریس سے استثنیٰ حاصل کرنا ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر انہیں وزیردفاع کے طور پر بھی نامزد کرتے تو بھی اس سلسلے میں کانگریس سے اجازت حاصل کرنا ممکن تھا کیونکہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ ریٹائرڈ جنرل فلِن کو اپنا قومی سلامتی کا مشیر (نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر) مقرر کرتے ہیں تو  انہیں سینیٹ سے توثیق کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مائیکل فلِن امریکا کے اعلیٰ ترین خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے دو برس تک ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔