1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ریو اولمپکس میں مہاجر تیراک ’ہار‘ کر بھی جیت گئی

ایک سال قبل ’تیر‘ کر سمندر عبور کرنے والی شامی تیراک ان دس مہاجر کھلاڑیوں کی ٹیم میں شامل ہیں، جو ریو اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ تیراک ابتدائی مقابلے سے اگلے مرحلے میں نہ پہنچ پائیں، مگر انہوں نے دل ضرور جیت لیے۔

ریو میں جاری اولمپک مقابلوں میں پہلی مرتبہ مہاجرین کی ٹیم بھی شامل کی گئی ہے۔ ہفتے کے روز اسی ٹیم کا حصہ یسریٰ مردینی 100 میٹر بٹر فلائی پیراکی کے ایک ابتدائی مقابلے میں کامیاب تو ہو گئیں، مگر ان کا نتیجہ ایسا نہیں تھا کہ وہ اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرتیں۔ تاہم سیمی فائنل تک رسائی نہ حاصل کر پانے کے باوجود مردانی نے عمدہ تیراکی سے لاکھوں افراد کے دل جیت لیے۔

مردینی نے سو میٹر بٹرفلائی تیراکی کے مقابلے میں مقررہ فاصلہ ایک منٹ نو اعشایہ دو ایک سیکنڈز میں طے کیا اور یوں ان کی پوزیشن 41ویں رہی۔ اس مقابلے میں پہلے 16 نمبروں پر آنے والے تیراکوں کو ہی اگلے مرحلے تک رسائی ملی ہے۔ اس ابتدائی مقابلے میں سویڈن کی سارہ سجوسٹروم نے مقررہ فاصلہ چھپن اعشاریہ دو پانچ سیکنڈز میں طے کیا۔

مردینی اب بدھ کے روز سو میٹر فری اسٹائل مقابلے میں حصہ لیں گی۔

Rio 2016 Schwimmen Syrien Yusra Mardini

یسری مردینی نے اس مقابلے میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا

گزشتہ برس اپنی بہن کے ساتھ شامی تنازعے کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے والے مردینی اس سے قبل شام میں تیراکی کے مقابلوں میں شریک ہوا کرتی تھیں۔ ان دونوں بہنوں کو شام کی سب سے بہترین تیراک تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم یہ دونوں بہنیں گزشتہ برس بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یورپ پہنچیں۔

ان دونوں بہنوں نے پہلے لبنان اور پھر ترکی کا سفر اختیار کیا اور پھر انسانوں کے اسمگلروں کو پیسے دے کر ایک خستہ حال کشتی کے ذریعے یونان تک کے سفر پر نکلیں۔ اس کشتی پر موجود 20 افراد میں سے صرف تین تیرنا جانتے تھے۔ یہ کشتی ہوا کے تھپیٹروں اور سمندری موجوں کا مقابلہ نہ کر سکی اور تمام تر کوشش کے باوجود ڈوبنے لگے۔ ایسے میں مردینی سسٹرز اور ایک اور تیراک نے سمندر میں اتر کر اس کشتی کو سہارا دیا اور یہ ساڑھے تین گھنٹے تک تیر کر کشتی کو لیے یونانی جزیرے لیسبوس پر پہنچے اور اس طرح یہ سمندر تیر کر عبور کر لیا گیا۔

بعد میں یہ دونوں بہنیں بلقان خطے کے ذریعے ہنگری اور پھر آسٹریا سے ہوتی ہوئی جرمنی پہنچیں۔ یہ بہنیں اب دیگر اہل خانہ کے ساتھ جرمن دارالحکومت برلن میں قیام پزیر ہیں۔