1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’رین بو واریئر‘، ماحولیاتی تنظیم گرین پیس کا نیا بحری جہاز

تحفظ ماحول کی علمبردار تنظیم گرین پیس نے 14 اکتوبر کو اپنا ایک نیا بادبانی بحری جہاز متعارف کروایا ہے، جو اس تنظیم کے پچاس سال پرانے جہاز ’رین بو واریئر‘ کی جگہ لے گا۔ اس بحری جہاز پر 33 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔

default

نصف صدی پرانا جہاز، جو وقت کے ساتھ ساتھ کافی شکستہ ہو چکا تھا، عالمی سمندروں میں غیر قانونی اور ماحول دشمن سرگرمیوں میں مصروف عناصر کے خلاف کئی مہمات میں شریک رہا ہے۔

نیا ’رین بو واریئر‘ اپنے پہلے مشن پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ جائے گا تاکہ بجلی کے حصول کے لیے کوئلہ جلائے جانے کے رجحان کے خلاف مہم چلا سکے۔ اِس کے بعد اِس کی اگلی منزل جنوبی امریکہ میں واقع ایمیزون جنگلات ہوں گے، جہاں یہ جہاز اور اِس پر سوار عملہ استوائی جنگلات کی تباہی کی طرف توجہ دلائے گا۔

گرین پیس کے ڈائریکٹر کُومی نائیڈو

گرین پیس کے ڈائریکٹر کُومی نائیڈو

یہ بادبانی جہاز 58 میٹر یا 190 فٹ طویل ہے جبکہ کم و بیش اتنے ہی اونچے اِس کے دو مستول ہیں۔ اِس پر ایک ہیلی پیڈ بھی بنا ہوا ہے جبکہ اس پر وہ نظام بھی موجود ہے، جس کی مدد سے ہنگامی حالات میں وہ کشتیاں بھی سمندر میں اتاری جا سکتی ہیں، جن میں ہوا بھری ہوتی ہے۔

جہاز کا نام ’رین بو واریئر‘ کینیڈا کے قدیم Cree باشندوں کی اُس پیشین گوئی کے پیشِ نظر رکھا گیا ہے، جس کے مطابق جب انسان کے ہاتھوں دھرتی کو تباہی کا سامنا ہو گا تو پوری انسانیت متحد ہو کر اِس تباہی کو روکنے کی کوشش کرے گی اور یہ وہ گروہ ہو گا، جو ’رین بو واریئرز‘ یا ’قوس قزح کے جنگجو‘ کہلائے گا۔

گرین پیس کا بحری جہاز، جسے فرانسیسی خفیہ ادارے کے ایجنٹوں نے ایٹمی تجربات کی مخالفت کرنے کی پاداش میں سن 1985ء میں غرق کر دیا تھا

گرین پیس کا بحری جہاز، جسے فرانسیسی خفیہ ادارے کے ایجنٹوں نے ایٹمی تجربات کی مخالفت کرنے کی پاداش میں سن 1985ء میں غرق کر دیا تھا

گرین پیس کے ان جہازوں کا نام اُس پہلے بحری جہاز کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے فرانسیسی خفیہ ادارے کے ایجنٹوں نے ایٹمی تجربات کی مخالفت کرنے کی پاداش میں سن 1985ء میں غرق کر دیا تھا۔ دوسرے بحری جہاز کو اس سال ریٹائر کر دیا گیا تھا اور اسے بنگلہ دیش میں بحری جہاز میں قائم ایک ہسپتال کی شکل دے دی گئی تھی۔ اس جہاز کا آخری مشن وہ تھا، جس میں اِس نے فوکوشیما جوہری پلانٹ کے حادثے کے بعد جاپان کے ساحلوں کے قریب تابکاری ماپنے کے لیے تجربات کیے تھے۔

گرین پیس کے ڈائریکٹر کُومی نائیڈو نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ ایک مہنگا بحری جہاز ہے لیکن ’ ہم کبھی بھی تیل، کوئلے اور گیس کمپنیوں کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے‘۔ گرین پیس کا سالانہ بجٹ 250 ملین ڈالر ہے اور اِس کے دفاتر چالیس سے زیادہ ممالک میں قائم ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM