1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رینجرز اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی سماعت آج سے

کراچی میں نوجوان کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار چھ رینجرز اہلکاروں اور ایک شہری کے خلاف مقدمے کی سماعت آج شروع ہو رہی ہے۔ ان پر فرد جرم بدھ کو عائد کی گئی تھی۔

default

عدالت کی جانب سے ان افراد پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد سرکاری استغاثہ محمد خان نے مقدمے کی سماعت جمعرات (آج) سے شروع ہو رہی ہے۔ بدھ کو کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے حوالے سے چھیالیس گواہوں کو بیان دینے کے لیے بلایا جائے گا۔

بائیس سالہ نوجوان سرفراز شاہ کو رواں ماہ کراچی میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کی ہلاکت کی ویڈیو پاکستانی ٹیلی وژن چینلز نے متعدد مرتبہ نشر کی۔
اس ویڈیو میں ایک شخص (افسر خان) کو سرفراز شاہ کو رینجرز اہلکاروں کی جانب دھکیلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس نے شاہ پر ڈکیتی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم سرفراز شاہ کے خاندان نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک معصوم طالب علم تھا۔
ٹیلی وژن چینلز پر بارہا نشر کی گئی ویڈیو کے مطابق سرفراز شاہ سیاہ پینٹ اور نیوی شرٹ پہنے ہوئے ہے۔ وہ رینجرز اہلکاروں سے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار اس کی گردن پر بندوق رکھے ہوئے ہے، بعدازاں اسی اہلکار نے سرفراز کے ہاتھ اور ران پر دو گولیاں ماریں۔
اس کے بعد سرفراز شاہ گر پڑا، اس کا خون بہتا رہا اور وہ سکیورٹی اہلکاروں سے مدد مانگتا رہا۔ تاہم ویڈیو کے مطابق ان اہلکاروں نے اس کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا اور محض اسے تڑپتا دیکھتے رہے، جب تک کہ وہ بے ہوش نہ ہو گیا۔

اس مقدمے میں چھ رینجرز اہلکاروں اور ایک شہری پر مقامی عدالت نے فردِ جرم عائد کرتے ہوئے قتل اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ الزامات ثابت ہونے پر انہیں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

سرکاری استغاثہ محمد خان نے بتایا: ’’عدالت نے تمام ملزمان پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات لگاتے ہوئے باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے وکلاء کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزمان نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے۔ وکلاء صفائی میں سے ایک ایم آر سید کا کہنا تھا: ’’وہ بے قصور ہیں اور اپنا دفاع کریں گے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’’ہم نے عدالت سے حکومتی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی مرتب کردہ تفتیشی رپورٹ کی فراہمی کے لیے کہا ہے۔‘‘

ملزمان کو اپنے دفاع کے لیے وکلاء تلاش کرنے کا وقت دینے کے لیے ان کے خلاف باقاعدہ فرد جرم عائد کیے جانے میں تاخیر ہوئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM