1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں مرنے والوں کے پریشان لواحقین

27 جنوری کو امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو مسلح موٹر سائیکل سوار پاکستانی نوجوانوں کے لواحقین ایک ایسے سیاسی طوفان میں گھر کر رہ گئے ہیں، جسے انتہا پسند اسلامی تنظیمیں اور ہوا دے رہی ہیں۔

default

ڈیوس کی گولی سے ہلاک ہونے والے ایک نوجوان فیضان حیدر کے 34 سالہ بھائی عمران حیدر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک اُن کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے نہ تو پاکستانی حکومت کا کوئی نمائندہ آیا ہے اور نہ ہی امریکی حکومت کا کوئی عہدیدار۔ عمران حیدر کے مطابق اُنہیں تعاون اور حمایت کی پیشکش جماعت الدعوۃ کی طرف سے ہوئی ہے۔ یہ وہی تنظیم ہے، جسے اقوام متحدہ نے بلیک لِسٹ کر رکھا ہے اور جس پر الزام ہے کہ 2008ء میں ممبئی کے دہشت پسندانہ حملوں کے پیچھے اِسی کا ہاتھ تھا۔

عمران نے جماعت الدعوۃ اور جماعتِ اسلامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’ان لوگوں نے ہمیں حوصلہ اور مدد دی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے خلاف وہ ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ جو کچھ غلط ہوا ہے، وہ سارا امریکہ ہی نے کیا ہے۔‘ عمران حیدر نے بتایا کہ وہ اور اُس کے گھر والے اِن مذہبی جماعتوں کی طرف سے منظم کردہ اُن اجتماعات میں شریک ہوئے ہیں، جن میں ڈیوس کے خلاف عدالتی کارروائی کے مطالبات کئے گئے ہیں۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس

عمران کا کہنا تھا، ’ڈیوس کوئی سفارت کار نہیں ہے، وہ ایک جاسوس ہے۔ اگر وہ سفارت کار ہے تو حکومت نے اب تک یہ بات کہی کیوں نہیں۔ یہ سارا معاملہ ہی مشکوک ہے۔‘ عمران نے خیال ظاہر کیا کہ تعزیت کے لیے آنے والے اُن چند لوگوں کو یقیناً امریکیوں ہی نے بھیجا ہو گا، جو یہ پوچھتے رہے کہ آیا وہ لوگ قصاص قبول کر لیں گے۔

ڈیوس کی مدد کو آنے والی امریکی قونصلیٹ کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے نوجوان عباد الرحمان کے بھائی اعجاز الرحمان نے بتایا کہ حکام نے اب تک اُنہیں ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں، جن سے پتہ چل سکتا کہ اُن کے بھائی کو کچلنے والی گاڑی کو کون چلا رہا تھا۔

اعجاز الرحمان نے اِس بات کا اعتراف کیا کہ سیاسی گروپ اِس کیس کو اپنے اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاہم اُس نے کہا کہ اپنی آواز متعلقہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اُنہیں بہرحال کوئی پلیٹ فارم تو درکار ہے۔ اعجاز الرحمان کے مطابق، ’ہمیں امریکہ سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن ہم اُن لوگوں کے چہرے دیکھنا چاہتے ہیں، جو اُس گاڑی میں سوار تھے۔‘

اِسی دوران واشنگٹن سے موصولہ خبروں کے مطابق سرکردہ امریکی سیاسی نمائندوں نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروانے کے لیے پاکستان کو امداد کی فراہمی روکنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے حال ہی میں پاکستان سے لوٹنے والے چیئرمین جان کیری نے کہا کہ اِس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اُمید ہے کہ چند روز کے اندر اندر کوئی بہتر حل نکل آئے گا۔ وہ غالباً سینیٹ میں اپنے اُن ساتھیوں کو پُر سکون کرنا چاہتے تھے، جن کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا جا رہا ہے اور جو امریکی شہری ڈیوس کو رہا کروانے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

US Senator Kerry zum Start Abkommen

جان کیری نے کہا کہ اِس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اُمید ہے کہ چند روز کے اندر اندر کوئی بہتر حل نکل آئے گا

اُدھر پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جہاں ایک طرف یہ کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے، وہیں اُنہوں نے اِس معاملے کے اسلامی شرعی قانون قصاص و دیت کے تحت کسی ممکنہ حل کا بھی ذکر کیا، جس کی رُو سے مرنے والے کے اہلِ خانہ قصاص کے بدلے قاتل کو معاف کر سکتے ہیں۔

ایک پاکستانی عدالت نے، جسے ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ دینا ہے، جمعرات کو اپنی کارروائی 14 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی۔ واشنگٹن حکومت کا اصرار ہے کہ ریمنڈ ڈیوس ایک سفارت کار ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM