1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریمنڈ ڈیوس کے خلاف امریکہ میں تحقیقات ہوں گی، کیری

امریکی سینٹ کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کی ہلاکت پر افسردہ ہیں تاہم ڈیوس کو رہا کیا جانا چاہیے تاکہ امریکہ خود اس معاملے کی تحقیقات کرسکے۔

default

امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق جان کیری کے اس دورے کا اولین مقصد ریمنڈ ڈیوس کی فوری رہائی کو ممکن کرنا نہیں بالکل دو طرفہ سفارتی تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔

سینیٹر کیری نے مشرقی شہر لاہور کا دورہ کیا۔ اسے دونوں ممالک کے درمیان موجود سفارتی تناؤ میں کمی کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی سینیٹر نے کہا کہ وہ یہاں پیش آنے والے واقعات پر امریکی عوام کی جانب سے افسوس کے اظہار کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ ہم اس افسوسناک واقعے پر معذرت خواہ ہیں۔‘‘

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

ملزم ریمنڈ ڈیوس عدالت میں پیشی کے موقع پر

پنجاب پولیس کے زیر حراست امریکی ملزم ریمنڈ ڈیوس کا موقف ہے کہ انہوں نے ذاتی دفاع میں فائرنگ کی تھی، جس کی زد میں آکر دو پاکستانی شہری ہلاک ہوگئے۔ 27 جنوری کے اس واقعے میں ایک تیسرا پاکستانی شہری امریکی سفارتخانے کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہوا جبکہ رواں ماہ ایک مقتول کی بیوہ خودکشی کرچکی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی عملے کا رکن قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم چونکہ 27 جنوری کو ریمنڈ مسلح حالت میں اور جی پی ایس ٹریکنگ آلات سمیت پکڑے گئے تھے لہذا پاکستان میں کئی حلقے ان کے سفارتکار ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ دیگر امریکی عہدیداروں کے مقابلے میں سینیٹر جان کیری کو پاکستان میں زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہی کی سرپرستی میں پاکستان کے لیے ریکارڈ 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکج تشکیل دیا گیا تھا۔ لاہور میں گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستانی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ریمنڈ ڈیوس سے امریکی محکمہ ء انصاف کریمینل انویسٹی گیشن کرکے حقائق کو عام کرے گا۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

مختلف جماعتیں ریمنڈ ڈیوس کو سزا دینے کے حق میں مظاہرے منعقد کرواچکی ہیں

سینیٹر جان کیری کی لاہور آمد سے قبل امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ریمنڈ ڈیوس کی حمایت میں بیان جاری کیا۔ ’’ ہم اس شخص ’ریمنڈ ڈیوس‘ کی رہائی کے لیے پاکستان حکومت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔‘‘ اوباما کے بقول وہ حقیقت میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسردہ ہیں تاہم ایک بڑا مقصد داؤ پر ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سفارتی استثنیٰ اہم ہے کیونکہ دوسری صورت میں ایسے ممالک کے لیے پیغامات لے جانے والے سفارتکار مقامی سطح پر عدالتی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں، جن ممالک کے ساتھ امریکہ اختلاف رائے رکھتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM