1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں انکشافات: پاکستانی خفیہ ایجنسی ناراض

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب کے کئی مندرجات پر پاکستان کی اہم ترین انٹیلیجنس ایجنسی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

default

ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں بہت سے مظاہرے کیے گئے تھے، جن میں اس امریکی اہلکار کے لیے پھانسی کے مطالبات کیے جاتے رہے تھے

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے اتوار دو جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یہ کتاب امریکا کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے اس سابق اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی یاد داشتوں پر مشتمل ہے، جو اپنی ملازمت کے دور میں پاکستان میں تعینات رہے تھے۔

ریمنڈ ڈیوس بین الاقوامی سطح پر اور خاص طور پر پاکستانی میڈیا میں حال ہی میں اس وقت بڑی سرخیوں کی وجہ بنے، جب انہوں نے اپنی کتاب میں یہ تفصیلات بھی شامل کر دیں کہ کسی طرح پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ نے، خود ڈیوس کے بقول، ان کے خلاف قتل کے ایک مقدمے کو ختم کروانے میں مبینہ طور پر بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔

کیا ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں جمہوری  حکومت کا ہاتھ تھا؟

پاکستان: دیت کے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ

ریمنڈ ڈیوس امریکہ میں بھی لڑ پڑا

ریمنڈ ڈیوس نے 2011ء میں پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور میں دو افراد کو قتل کر دیا تھا۔ اس دوہرے قتل کے بعد ڈیوس کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان پر مقدمہ بھی چل رہا تھا۔ لیکن پھر یہ مقدمہ اس وقت ختم ہو گیا تھا، جب دونوں مقتولین کے خاندانوں کو مجموعی طور پر 2.4 ملین امریکی ڈالر کے برابر خون بہا ادا کر دیا گیا تھا۔

NO FLASH Pakistan Raymond Allen Davis

ریمنڈ ڈیوس کی لاہور پولیس کی حراست میں لی گئی ایک تصویر

اس دوہرے قتل کے بعد جب ڈیوس کو لاہور پولیس نے گرفتار کیا تھا، تو ان کی گرفتاری پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک بڑے سفارتی بحران کی وجہ بھی بن گئی تھی۔

ریمنڈ ڈیوس کی اس کتاب کا عنوان ہے: ’دا کنٹریکٹر: کیسے میں ایک پاکستانی جیل میں پہنچا اور ایک سفارتی بحران کھڑا ہو گیا۔‘‘ اپنی اس کتاب میں ڈیوس نے پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا کا نام لے کر دعویٰ کیا ہے کہ کس طرح عدالت میں ڈیوس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران آئی ایس آئی چیف پاشا مبینہ طور پر اپنے ہاتھ میں ایک موبائل فون لیے ہوئے تھے اور ’بار بار ٹیلی فون کر کے پاکستان میں تعینات ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار کو آگاہ‘ کر رہے تھے۔

پاک امریکہ تعلقات میں مشکلات رہیں گی، کیمرون منٹر

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی، ڈیل ہوئی یا نہیں؟

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف پاکستان میں مظاہرے جاری

اس کتاب کے مندرجات اور اس میں کیے گئے دعووں کی تفصیلات پر مبنی کئی خبریں پاکستانی میڈیا میں ایک دو روز سے شائع ہو رہی تھیں، جس سے کئی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں داخلی طور پر آئی ایس آئی کی ساکھ اس لیے متاثر ہو رہی تھی کہ دو مقامی باشندوں کے دوہرے قتل کے بعد جب ریمنڈ ڈیوس کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا، تب ان کے خلاف عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جاتا تھا۔

Pakistan Ashfaq Parvez Kayani

جون دو ہزار گیارہ میں لی گئی پاکستانی فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ احمد شجاع پاشا کی ایک تصویر

اس پس منظر میں پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کے روز نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی نے ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان سے نکالنے میں سی آئی اے کی مدد کی تھی۔ لیکن اب مستقبل میں امریکی سی آئی اے کی ایسی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔‘‘

پاکستانی انٹیلیجنس کے جس اعلیٰ اہلکار نے یہ بات نیوز ایجنسی اے پی کو بتائی، اس نے یہ بیان اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر دیا، جو کہ اس ’ایجنسی کی پالیسی‘ کے مطابق ہے۔

DW.COM