1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریمنڈ ڈیوس کی حیثیت: حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت

لاہور ہائی کورٹ نے دو پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی سفارتی حیثیت سے متعلق جواب داخل کرانے کے لیے وفاقی حکومت کی تین ہفتوں کی مہلت دینے سے متعلق درخواست منظور کر لی ہے۔

default

ریمنڈ ڈیوس کو عدالت میں لے جایا جا رہا ہے

وفاقی حکومت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وزارت خارجہ کی طرف سے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ کی تصدیق یا تردید کے لیے مہلت دی جائے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ڈال دیا گیا ہے اور اب وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

ادھر نئی وفاقی کابینہ آج اپنے پہلے اجلاس میں ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر بھی غور کرے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی عہدیداروں کے بیانات اور خصوصاً سینیٹر جان کیری کے دورہء پاکستان کے تناظر میں ریمنڈ ڈیوس کیس کا جائزہ لیا جائے گا۔

John Kerry mit Thumbnail

سینیٹر جان کیری

خیال رہے کہ سینیٹر جان کیری نے اپنے دو روزہ دورہء پاکستان کے دوران اہم سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر کے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن بظاہر وہ اس امریکی شہری کےلیے کوئی بڑا ریلیف لیے بغیر ہی بدھ کی رات واپس امریکہ روانہ ہو گئے تھے۔

اسی دوران اپوزیشن رہنما میاں نواز شریف نے سینیٹر جان کیری سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سینیٹر جان کیری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں۔ نواز شریف نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے پہلے دن سے ہی اس کیس سے نمٹنے کے لیے درست حکمت عملی نہیں اپنائی۔

دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر غور کے لیے آج جمعرات کو حکمران پیپلز پارٹی کی ’کور کمیٹی‘ کا اجلاس بھی بلا رکھا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ریمنڈ ڈیوس سے متعلق ایک روز قبل کی گئی پریس کانفرنس پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس