1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریمنڈ ڈیوس کیس کی سماعت تین مارچ تک کے لیے ملتوی

دو پاکستانی شہریوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ایک امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے خلاف جاری عدالتی کارروائی تین مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

default

ریمنڈ ڈیوس حراست میں

ریمنڈ ڈیوس کیس کی سماعت جمعے کے روز سخت ترین حفاظتی انتظامات میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے اندر ہوئی۔ اس مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلاء کے مطابق جیل میں واقع کمرہ عدالت دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور محمد یوسف اوجلہ، عدالتی عملہ، وکلاء، مقتولین کے لواحقین اور امریکی قونصلیٹ کے اہلکار موجود تھے۔

وکیل اسد منظور بٹ کے مطابق کمرہ عدالت سے ملحقہ سلاخوں والے ایک چھوٹے کمرے میں پولیس کی حراست میں ریمنڈ ڈیوس موجود تھا۔ اس نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا اور اس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔

کمرہ عدالت میں داخلے سے پہلے امریکی اہلکاروں سمیت سب شرکاء کی جامہ تلاشی لی گئی۔ سماعت کے دوران جج محمد یوسف نے کریمنل پروسیجر کورٹ کی شق دو سو پینسٹھ سی کے تحت امریکی شہری کے خلاف عدالت میں جمع کروائے جانے والے چالان کی نقول ریمنڈ ڈیوس کو فراہم کیں۔ اردو میں تحریر کردہ چالان کی دستاویزات پر اس کے اعتراض پر اسے انگریزی میں تحریر کردہ دستاویزات فراہم کی گئیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے چالان کی نقول کی وصولی کے باوجود وصولی کی تصدیق والے کاغذ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

Pakistan Außenminister Shah Mehmood Qureshi

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ اگر ریمونڈ ڈیوس سفارت کار ہے اور اسے سفارتی استثنٰی حاصل ہے، تو پھر امریکیوں کی طرف سے اسے ناپسندیدہ شخص قرار دے کر ملک بدر کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے

اس موقع پر ریمنڈ ڈیوس نے عدالت میں ایک درخواست پیش کی، جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ وہ سفارت کار ہے اور اسے عدالتی استثنٰی حاصل ہے، اس لیے اسے رہا کیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کے حوالے سے جواب داخل کرنے کے لیے پنجاب حکومت اور مقتولین کے وکلاء کو تین مارچ کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔

جمعے کے روز ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ تاہم عدالت نے ڈیوس کو ہدایت کی کہ وہ اگلی پیشی سے پہلے اپنا وکیل مقرر کرے۔ ایڈیشنل پراسیکوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد کے مطابق اگلی پیشی پر ریمنڈ ڈیوس پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

کمرہ عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ کوٹ لکھپت جیل کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ اگر ریمونڈ ڈیوس سفارت کار ہے اور اسے سفارتی استثنٰی حاصل ہے، تو پھر امریکیوں کی طرف سے اسے ناپسندیدہ شخص قرار دے کر ملک بدر کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکیوں کو اعتماد ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سفارت کار ہے تو پھر وہ حقائق عدالت کے سامنے لانے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں۔

اُدھر جمعے کو ہی مزنگ کے علاقے میں جائے واردات پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ریمنڈ ڈیوس کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے اِس واقعے کے مقتولین کے گھروں میں جا کر لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس