1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریمنڈ ڈیوس کا استثنیٰ، فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کےاستثٰنی کیس کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار کےاستثنیٰ سے متعلق فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔

default

لاہور ہائی کورٹ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس اعجاز احمد چوہدری کا کہنا تھا، ’’ ریمنڈ ڈیوس کے استثنیٰ سے متعلق فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔‘‘ سماعت کے دوران وزارت خارجہ کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس سے متعلق تمام ثبوت عدالت میں پیش کردیے گئے ہیں۔ عدالت کو ابھی تک انتظار تھا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے امریکی اہلکار کے استثنیٰ سے متعلق تمام معلومات پیش کی جائیں۔ تاہم وزارت داخلہ ایسا کوئی بھی واضح جواب دینے میں ناکام رہی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔

Raymond Allen Davis Demonstration

پاکستانی مذہبی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سر عام پھانسی کی سزا دی جائے

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا، ’’ریمنڈ ڈیوس کو ویزا امریکی حکومت کی درخواست پر دیا گیا۔ ان کے پاس بزنس ویزا ہے۔‘‘ وزارت خارجہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ستائیس جنوری کو امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے لہذا اسے رہا کیا جائے۔

لاہور کے مشرقی حصے میں واقع ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے بعد مقتول فیضان کے وکیل منصف اعوان نے بتایا کہ ڈیوس کےاستثنٰی کا فیصلہ ہونے تک اس کا نام ’ای سی ایل‘ یا ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے ایک دو دن میں درخواست دائر کی جائے گی۔ دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں ہی ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنٰی کے معاملے پر ویانا کنونشن ایکٹ کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست گزار وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کے تحت کسی بھی شخص کو استثٰنی دینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

پنجاب پولیس کے زیر حراست امریکی ملزم ریمنڈ ڈیوس کا موقف رہا ہے کہ انہوں نے ذاتی دفاع میں فائرنگ کی تھی، جس کی زد میں آکر لاہور میں دو پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔27 جنوری کے اس واقعے میں ایک تیسرا پاکستانی شہری امریکی سفارتخانے کی ایک اس گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہوا تھا، جو ریمنڈ ڈیوس کی مدد کی لیے جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM