1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریمنڈ ڈیوس مقدمہ، فیصلے کے لئے عدالت: سابق پاکستانی وزیرخارجہ

پاکستان کے سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ سمجھتا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ اور قانون کا مضبوط سہارا حاصل ہے، تو یہ بات عدالت میں ثابت کی جائے۔

default

بدھ کے روز راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں امریکی سفیر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ نہ دیا گیا، تو ان کی (شاہ محمود قریشی ) جرمنی میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی جائے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افسوس ہے کہ امریکہ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور منع کرنے کے باوجود ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پبلک مسیجنگ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکہ پر واضح کیا تھا کہ دھمکیوں سے معاملات مزید الجھیں گے۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے ایک دن قبل پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجبور کیا گیا تو وہ ریمنڈ ڈیوس کا کیس خراب کرنے والے افراد کا نام منظر عام پر لے آئیں گے۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

سکیورٹی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو عدالت لے جاتے ہوئے

دوسری جانب پاکستان کی خارجہ امور کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ پاکستان ریمنڈ ڈیوس کیس میں ویانا کنونشن کی تشریح کے لیے بین الاقوامی قانون کے ماہر کی خدمات حاصل کرے گا۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابھی اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا فیصلہ نہیں کیا البتہ سفارتی استثنیٰ کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی تشریح کے لیے رائے ضرور حاصل کی جائے گی۔

وزیر مملکت کے اس بیان پر قانونی ماہرین نے اسے وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔ سابق جج اور سینیئر قانون دان طارق محمود کا کہنا ہے، ’بات بالکل سیدھی ہے ویانا کنونشن 1961ء کے تحت یہ فیصلہ ہونا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا تعلق امریکی ایمبیسی سے تھا، وہ ڈپلومیٹ تھے یا انتظامی یا تکنیکی سٹاف سے تعلق رکھتے تھے اور اس سوال کی بنیاد حقائق ہیں، جو صرف پاکستانی دفتر خارجہ ہی واضح کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ، ’اس معاملے میں پہلے حقائق اور پھر قانون کی بات ہو گی۔ اسی لیے عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھا، جس کے لیے حکومت نے مہلت مانگی اور وہ انہیں دی گئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے ریمنڈ ڈیوس کیس کا فیصلہ وفاقی حکومت کے جواب پر ہی ہوگا۔‘

دریں اثناء وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آج (بدھ) کو اسلام آباد میں تمام اتحادی جماعتوں کا سربراہی اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پنجاب میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مخلوط حکومت کے حوالے سے اختلافات اور ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

رپورٹ شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس