1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریل حادثے کی پاداش میں چینی محکمہء ریلوے کے تین افسران برطرف

بیجنگ حکومت نے ریل حادثے کی پاداش میں متعلقہ محکمے کے تین اعلیٰ افسران کو برطرف کردیا ہے۔ ہفتے کے روز پیش آنے والے اس حادثے میں 43 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

default

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب بجلی منقطع ہونے کے سبب ایک تیز رفتار ریل گاڑی پٹری پر کھڑی رہ گئی اور پیچھے سے آنے والے بُلٹ ٹرین آکر اس سے ٹکر اگئی تھی۔ دارالحکومت بیجنگ سے 860 میل جنوب میں واقع وینژو شہر میں پیش آنے والے اس حادثے کے سبب قریب دو سو مسافر زخمی بھی ہوئے تھے۔ دونوں ریل گاڑیوں میں سوار مسافروں کی مجموعی تعداد 1630 بتائی جارہی ہے۔

جائے حادثہ پر امدادی کاموں میں مصروف ایک کارکن وائن جُن نے بتایا کہ متاثرہ ریل گاڑیوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ ٹریک پر سروس بحال ہوسکے۔ تیزی سے مشہور ہوتے چینی ریلوے نظام میں اس حادثے کے بعد مسافروں کی سلامتی سے متعلق کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ حکام نے عوامی تنقید کے جواب میں فوری طور پر متعلقہ محکمے کے تین اعلیٰ افسران کو برطرف کردیا۔ یاد رہے کہ چین کے سابق وزیر ریلوے لیو ژی جون Liu Zhijun کو رواں سال فروری میں ضابطے کی سنگین خلاف ورزیوں پر ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا

Flash-Galerie Wenzhou Schnellzug Kollision

یہ حادثہ ایک پل پر پیش آیا تھا

محکمہء ریلوے کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق شنگھائی ریلوے بیورو کے چیف کو ان کے نائب اور شنگھائی بیورو میں حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سمیت برطرف کردیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان تینوں سے تحقیقات بھی کی جائیں گی۔ وینژو شہر میں اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران محکمہ ء ریلوے کے ترجمان وانگ یونگ پنگ نے کہا کہ برطرف کیے گئے افسران کو چاہیے کہ حادثے سے متعلق اپنی ذمہ داری تسلیم کریں، ’’ ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ حادثہ تیز رفتار ریل گاڑی کی خودساختہ تکنیکی خرابی ہے، میں یہ کہوں گا کہ چین کا تیز رفتار ریلوے نظام عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘

ابتدائی طور پر اس حادثے میں 35 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ اتوار کو ریسکیو کے عملے نے مزید 8 لاشوں کو ملبے کے نیچے سے نکالا جس کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 43 ہوگئی۔ چین میں حالیہ حادثے سے قبل 2008ء میں بھی ایک خونریز ریل حادثہ 70 سے زائد انسانوں کی جان لے چکا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM