1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ریلیف کاپٹر

پاکستانی دارالحکومت میں قائم ایک میڈیا کمپنی نے گزشتہ سال کے شدید سیلاب کے متاثرین اور ان کی مجموعی صورت حال پر مبنی ایک معلوماتی گیم متعارف کروائی ہے۔ یہ ایپل کی آئی ٹیونز پر دستیاب ہے۔

default

سن 2010 کے شدید سیلاب کے بعد کی صورت حال کے تناظر میں متاثرین تک امداد کی ترسیل پر مبنی اس گیم کو پچھلے سال اکتوبر میں لانچ کیا گیا تھا۔ اگلے دو چار ماہ کے دوران کم از کم نوے ہزار افراد نے اس کو ڈاؤن لوڈ کیا۔ بظاہر یہ ایک گیم ہے لیکن اس میں معلومات کے ساتھ ساتھ متاثرین کی حالت زار کو بھی سمویا گیا ہے۔ گیم میں پاکستان کے دلکش اور خوبصورت مقامات کو بھی عمدگی سے پیش کیا گیا۔

ریلیف کاپٹر نامی گیم نوکیا، آئی فون اور فیس بک پر دستیاب ہے۔ اس میں ایک ریلیف ہیلی کاپٹر ہے، جس کے ذریعے گیم کھیلنے والا سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اس معلوماتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی گیم کو بغیر کسی ادائیگی کے صارف اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔ اس گیم کے ہر لیول پر سیلاب کے اثرات کے حوالے سے معلوماتی سلائیڈ شو بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس گیم میں کھیلنے والا متاثرین تک امدادی سامان کی ترسیل سے راحت بھی حاصل کرتا ہے۔ منتظمین کے مطابق اس گیم کے ذریعے حاصل ہونے والی تمام آمدنی سیلاب زدگان کی بحالی کے عمل میں صرف کی جائے گی۔

ریلیف کاپٹر میں پاکستان کے دلکش مناظر بھی ہیں

اس گیم کو تشکیل دینے والے ادارے Werplay کے نوجوان چیف ایگزیکٹو محسن افضل کا کہنا ہے کہ اس اپلیکیشن کا مقصد اس امر کی طرف توجہ دلانا تھا کہ گزشتہ سال کے سیلاب کی لپیٹ میں عالمی ضمیر بھی بہہ گیا ہے۔ افضل کا یہ بھی خیال ہے کہ اس میڈیم سے عام لوگوں میں اس آفت کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں یقینی طور پر آسانی ہو گی۔ محسن افضل کو یقین ہے کہ شعوری بیداری انجام کار فنڈ اکھٹا کرنے میں معاون ہو گی۔ گیم بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو امریکہ سے تعلیم حاصل کر کے گزشتہ سال جولائی میں واپس اپنے ملک پہنچے تھے۔

سن 2010 کے سیلاب کی زد میں آ کر پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں کے لاکھوں افراد بے گھری کا شکار ہوئے تھے۔ کم از کم دو ہزار انسان جاں بحق بھی ہوئے تھے۔ کئی دیہات سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ اس سیلاب سے زمین پر ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ بنیادی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے سیلاب سے جنم لینے والا انسانی المیہ سن 2004 میں بحر ہند میں پیدا ہونے والی سونامی آفت کےالمیے سے بڑا خیال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس