1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریلیف اور جلد بحالی کے پلان 2010 ء کا اجراء

پاکستان میں حکومت نے اقوام متحدہ کے تعاون سے سیلاب زدہ علاقوں میں جلد بحالی کے لئے ’فلڈ ریلیف اور جلد بحالی کے پلان 2010 ء ‘ کا اجراء کر دیا ہے۔

default

سیلاب کے باعث نقصانات کی مجموعی مالیت 1.9 ارب ڈالر سے بھی زائد بنتی ہے

اس حوالے سے جمعہ کے روز اسلام آباد منعقدہ ایک تقریب میں وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حنا ربانی کھر کے علاوہ اہم سرکاری عہدیداروں، اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانے کے لئے ابتدائی سروے کے مطابق نقصانات کا تخمینہ 459 ملین ڈالر تھا جبکہ تازہ ترین سروے کے مطابق ان نقصانات کی مجموعی مالیت 1.9 ارب ڈالر سے بھی زائد بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نقصانات کے ازالے کے لئے ریلیف اور بحالی کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر شرکاء کو بتایا گیا کہ ایک ارب 94 کروڑ ڈالر مالیت کے 397 منصوبے مکمل کئے جائیں گے اور ان کے لئے چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ 29 ترجیحی اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں کمیونٹی کی بحالی کے 61، زراعت کے 24، تعلیم کے 22 اور فوڈ سکیورٹی کے 19 منصوبے بھی شامل ہیں۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

نقصانات کے ازالے کے لئے ریلیف اور بحالی کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی تیاری اور آغاز میں تا خیر کی گئی، جس کےسبب سیلابی متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور بین الاقوامی برادری بھی امداد کی فراہمی میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے NDMA کے چیئرمین جنرل (ر) ندیم احمد کہتے ہیں: ''منصوبوں کا جائزہ لینے کے بعد مانیٹرنگ کا ایک نظام بنانے میں کچھ دیر ضرور ہوئی لیکن آپ دیکھیں کہ ہماری پہلی اپیل 460 ملین ڈالر کی امداد کی تھی، اس پر 780 ملین ڈالر دئے گئے۔ اس لئے ڈونرز نے امداد نہیں روکی۔‘‘

Pakistan Überschwemmung Flut

کئی مقامات پر سیلاب زدگان بےسروسامانی کے عالم میں ہیں

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے رؤف اینگن نے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستانی سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ بعد ازاں ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پاکستان میں نمائندے مارٹن مگوانجا کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے عالمی برادری کی طرف سے پہلے سے بہتر رد عمل دیکھنے میں آئے گا۔

مگوانجا نے کہا: ''پاکستان میں عطیات دینے والے اور عام لوگ بہت تعاون کر رہے ہیں۔ لیکن ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ مزید مدد دے تاکہ سردیوں کے آغاز سے پہلے پاکستان میں سیلاب زدگان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔‘‘

اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستانی سیلاب زدگان کے لئے دی گئی دو ارب ڈالر کی امداد کا اب تک 40 فیصد موصول ہو سکا ہے۔ تاہم ماہرین ابھی تک سیلابی متاثرین کی بحالی کے لئے امداد کی فراہمی کو سست رفتار قرار دے رہے ہیں۔ اسی دوران این ڈی ایم اے کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی اپیل پر جو رقوم ملی ہیں، ان سے مختلف منصوبے پہلے ہی شروع کئے جا چکے ہیں، جن کا اندراج نئے منصوبوں کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس