1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ریشم کا کیڑا، غربت کا جال کاٹتا ہوا

بھارت میں آدی واسی نامی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کا شمار ملک کے غریب ترین شہریوں میں ہوتا ہے۔تاہم اب ریشم کی تجارت نے ان کی زندگی کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

مونیا مرمو کا تعلق بھی آدی واسی قبائل سے ہے۔ ایک عرصے تک غربت کی چکی میں پسنے والی مونیا کو آج بہت فخر ہے کہ اس کا پاس کچھ سرمایہ ہے اور اس کے گھر میں ٹیلی وژن بھی موجود ہے۔ مٹی سے بنے ہوئے اس کے گھر میں اب ایسی بہت سی بنیادی سہولیات موجود ہیں، جن کے لیے وہ کبھی ترسا کرتی تھی۔ اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ریشم کے کیڑے ہیں ۔

مونیا کے دو بچے ہیں۔ وہ بتاتی ہے، ’’میں ایک بہت ہی چھوٹے سے گھر میں رہا کرتی تھی، جس میں حاجت خانہ تک موجود نہیں تھا، پنکھا بھی نہیں تھا بلکہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کے بعد میں نے ریشم کے کیڑوں کی افزائش شروع کی اور پھر میں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا‘‘۔

India, A female silk worker on weaving machin in bangalore

بھارت چین کے بعد ریشم کی تمام اقسام کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ ریشم کے استعمال کے حوالے سے بھارت سرفہرست ہے

بھارتی ریاست بہار میں ریشم کے کیڑوں کے کاروبار کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اسی رجحان نے چالیس سالہ مونیا کو بھی اپنے قبیلے کی دیگر خواتین کی طرح جنگلی ’سلک وارم‘ کے کاروبار سے منسلک کیا۔ مونیا ریشم کے کیڑوں کے انڈے فروخت کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے، ’’ افزائش نسل کا موسم تین ماہ کا ہوتا ہے اور میں اس دوران پچاس ہزار روپے تک کما لیتی ہوں۔‘‘ یہ رقم اس کے لیے کسی خوش قسمتی سے کم نہیں۔ اب مونیا کے پاس ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر بھی ہے۔ یہ کاروبار شروع کرنے کے بعد مونیا کے گھر میں اب ایک نہیں بلکہ دو ٹوائلٹس ہیں اور صحن میں اپنا ایک واٹر پمپ بھی ہے۔

بہار اور اس سے ملحقہ ریاست جھاڑکھنڈ میں پائے جانے والے ان کیڑوں سے تسر نامی ریشم تیار کیا جاتا ہے، جو اپنی انفرادیت کے حوالے سے بہت مقبول ہے۔ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائے جانے کے بعد سے مونیا جیسے بہت سے افراد ریشم کے کاروبار کی جانب راغب ہوئے ہیں۔ اس طرح انہیں غربت کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کرنے موقع بھی ملا ہے۔

اس سلسلے میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’پرادھن‘ مقامی کاشتکاروں کو تربیت فراہم کر رہی ہے اور اس دوران انہیں مائیکرو اسکوپ بھی دیے گئے ہیں تاکہ یہ ریشم کے کیڑوں میں بیماریوں کا وقت سے پہلے ہی پتا لگا سکیں۔

بھارت چین کے بعد ریشم کی تمام اقسام کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ ریشم کے استعمال کے حوالے سے بھارت سرفہرست ہے۔