1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ریسکیو سرگرمیوں سے اسمگلروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، فرنٹکیس

یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس نے بحیرہء روم میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ریسکیو سرگرمیوں سے انسانوں کے اسمگلروں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

فرنٹیکس کے مطابق امدادی سرگرمیوں ہی کے تناظر میں انسانوں کے اسمگلر بھاری سرمایے کے عوض لیبیا سے تارکین وطن کو یورپی یونین پہنچانے کی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

فرنٹیکس کے سربراہ فابریکے لیگاری نے جرمن اخبار دی ویلٹ سے بات چیت میں امدادی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سلامتی کے یورپی اداروں سے تعاون نہیں کر رہے ہیں اور انہیں اپنی کارروائیوں پر ’نظرثانی‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کے ادارے انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف اقدامات اٹھا رہے ہیں، تاہم امدادی اداروں کی کارروائیوں سے ان اسمگلروں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

Griechenland Freiwillige Arbeit auf Lesbos (DW/G. Harvey)

لیبیا سے یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

فرنٹیکس کے سربراہ لیگاری نے کہا کہ شمالی افریقی ملک لیبیا کے پانیوں میں 40 فیصد ریسکیو آپریشنز میں ’غیرسرکاری تنظیمیں‘ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحری قوانین کے مطابق پریشانی کا اشارہ ملنے پر کسی بھی ریسکیو کشتی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کو بچانے کے لیے قدم اٹھائے۔ ان کا تاہم یہ بھی کہنا تھا، ’’مگر یہ دیکھنا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کے اقدامات جرائم پیشہ افراد کے کاروباری مفادات کی اعانت تو نہیں کر رہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا ہے، ’’ریسکیو آپریشنز انسانوں کے اسمگلروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور وہ مزید شکستہ اور خراب حال کشتیوں پر تارکین وطن کو لاد کر سمندر کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اب ان کشتیوں پر پینے کے پانی اور ایندھن کی قلت بھی ماضی کے برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔‘‘

فرنٹیکس یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی محافظ ایجنسی ہے اور وہ اس وقت بحیرہء روم کے ساتھ ساتھ بحیرہء ایجیئن میں بھی گشت میں مصروف ہے۔ تاہم یہ ایجنسی ابھی لیبیا کی سمندری حدود میں گشت نہیں کر رہی ہے۔ لیبیا میں سن 2011ء میں مسلح بغاوت اور معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شورش جاری ہے اور اسی بدامنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کے اسمگلر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔