’ریاض کی زبان میں بات نہیں ہو گی‘، شامی حکومتی وفد واپس | حالات حاضرہ | DW | 01.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ریاض کی زبان میں بات نہیں ہو گی‘، شامی حکومتی وفد واپس

شامی حکومت کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے جنیوا بھیجے جانے والے وفد نے بات چیت کو ادھورا ہی چھوڑ دیا ہے۔ وفد کا کہنا ہے کہ اپوزیشن وفد سعودی عرب کی زبان میں بات کر رہا ہے۔

اس وفد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومتی مذاکرات کار شاید اگلے ہفتے ان مذاکرات میں مزید بات چیت میں شامل نہ ہوں۔ حکومتی وفد کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شام میں مستقبل کی عبوری حکومت میں بشارالاسد کے کردار کو ختم کرنے کے مطالبے پر بات نہیں ہو سکتی۔

شامی تنازعے کا خاتمہ: روس، ایران اور ترکی ’پہلے قدم‘ پر متفق

گزشتہ ماہ شامی اپوزیشن کے مختلف گروپ ریاض میں جمع ہوئے تھے اور انہوں نے جنیوا امن مذاکرات کے لیے وفد کے سربراہ کا اعلان کیا تھا۔ شام میں گزشتہ دو برس سے جاری روسی عسکری مدد کے ساتھ شامی فورسز بہت سے اہم شہروں پر دوبارہ قبضہ کر چکی ہیں اور اسی تناظر میں دمشق حکومت ان مذاکرات میں ایک زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے۔ اسی لیے اپوزیشن گروپوں نے ایک مشترکہ وفد کو ان مذاکرات کے لیے بھیجا تھا۔

مذاکرات سے نکلتے ہوئے حکومتی وفد میں شامل بشار الجعفری کا کہنا تھا، ’’جب تک دوسرا گروپ ریاض کی زبان سے جڑا رہے گا، کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:41

حلب: معمول کی زندگی کی طرف لوٹتا ہوا

جعفری نے مزید کہا کہ وفد کی دوبارہ جنیوا واپسی کا فیصلہ دمشق حکومت کرے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے لیے مذاکرات کا یہ دور ختم ہو چکا۔ وہ (اقوام متحدہ کے مندوب برائے شام اسٹیفن ڈے میستورا) اس بابت اپنی رائے دے سکتے ہیں۔‘‘

شامی بحران: روسی، ایرانی اور ترک صدور کی اہم ملاقات

گزشتہ ماہ ریاض میں اپوزیشن گروپوں کے اجلاس کے بعد مشترکہ طور پر اس بات کو دہرایا گیا تھا کہ مستقبل کی کسی سیاسی تبدیلی کی صورت میں سرکاری طور پر بشارالاسد کو کوئی کردار نہیں سونپا جانا چاہیے۔ ان مذاکرات میں شریک گروپوں نے کہا تھا کہ جب تک بشارالاسد اقتدار سے الگ نہیں ہوتے نئے سیاسی سیٹ اپ کا آغاز ممکن نہیں ہو گا۔

جعفری نے اپوزیشن وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بیان جنیوا کی جانب جانے والے راستے پر باردوی سرنگ بچھانے سے عبارت تھا کیوں کہ وہ جان بوجھ کر ان مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔‘‘

جعفری نے جنیوا میں ان مذاکرات سے نکلتے ہوئے صحافیوں سے بات چیت میں مزید کہا، ’’اپوزیشن گروپوں کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں جو زبان استعمال کی گئی، وہ شامی حکومت کی نگاہ میں پیش رفت کی بجائے مذاکرات کے لیے ایک طرح سے شرط سے عبارت تھی۔ یہ زبان اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارنہ اور سیاسی طور پر یوں کہیے کہ ان مذاکرات سے متعلق شامی عوام کی امنگوں کو خاک میں ملانے جیسی تھی۔‘‘

مذاکرات کی کامیابی تک شام اور عراق سے نہیں نکلیں گے، میٹس

DW.COM

Audios and videos on the topic