1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ریاضی دان بینوا مینڈل براٹ کی رحلت

ریاضی کے شعبے جیومیٹری میں ایک نئی شاخ ’’فریکٹلز‘ کو دریافت کرنے والے پولش نژاد امریکی ماہر ریاضیات بینوا مینڈل براٹ جنہوں نے اپنی جوانی کا دور فرانس میں گزارا، گزشتہ کچھ برسوں سے سرطان کے عارضے میں مبتلا تھے۔

default

ریاضی کے شعبے جیومیٹری میں ایک نئی شاخ کا شور گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں مچا تھا۔ اس شاخ کے بارے میں تہلکہ مچا دینے والی کتاب سن 1982 میں شائع ہوئی اور ریاضی دانوں سمیت دوسرے سائنسدان حیرت زدہ ہو گئے۔ اس کتاب کا نام فطرت کی فریکٹیکل جیومیٹری یا انگریزی میں The Fractal Geometry of Nature تھا۔ کتاب کے مصنف ریاضی دان بینوا مینڈل براٹ تھے۔ اس کتاب میں مینڈل براٹ نے بحث کی کہ کائنات کے اندربےقاعدہ ریاضی کے ابجیکٹس اصل میں پیتھالوجیکل نہیں بلکہ مظاہر فطرت ہیں۔

اس شاخ کے تحت انسان کو معلوم ہوا کہ بادلوں اور ساحلی پٹیوں کی پیمائش ناممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔ مینڈل براٹ نے اپنی جیومیٹری کو گوبھی پھول سے تشبیہ دی، جس کا ہر حصہ مرکز سے جڑا ضرور ہوتا ہے لیکن وہ بھی اپنی جگہ ایک پھول ہوتا ہے۔ اس جیومیٹری کا اطلاق ان سمیت دوسرے

Leuchtturm Hoher Weg in der Wesermündung

فریکٹلز جیومیٹری کے ذریعے بادلوں اور سمندری ساحلی پٹیوں کی پیمائش ممکن ہوئی

سائنسدانوں نے فزکس، بائیولوجی کے علاوہ مالیات کے ساتھ ساتھ کئی اور مضامین پر کیا گیا۔ جدید بینکاری کے نظام پر بھی مینڈل براٹ کے فریکٹلز اصولوں کا کامیاب اطلاق کیا جاتا ہے۔

ریاضی دان بینوا مینڈل براٹ کا انتقال کیمبرج، میساچوسیٹس (Massachusetts) میں ہوا۔ رحلت کے وقت ان کی عمر پچاسی برس تھی۔ وہ پولینڈ میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کے والدین ان کے بچپن میں فرانس مہاجرت کر گئے تھے۔ فرانس ہی میں تعلیم و تربیت کے دوران ان کے اندر ریاضیات سے متعلق خصوصی شغف پیدا ہوا تھا۔ وہ مشہور امریکی یونیورسٹی Yale کےپروفیسر ایمریٹس تھے۔ اسی یونیورسٹی میں وہ برسوں ریاضی کی تعلیم دیتے رہے تھے۔ وہ نیو یارک میں واقع کمپوٹر کے مشہور زمانہ ادارے آئی بی ایم (IBM)کی مرکزی لیبارٹری سے بھی بہت عرصہ منسلک رہے۔ ان کو 1993 میں فریکٹلز کے طبیعات میں استعمال پر فزکس کا وولف پرائز دیا گیا اور سن 2003 میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا معروف جاپان پرائز بھی دیا گیا۔

ان کی رحلت کے بعد فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی جانب سے خصوصی تعزیتی پیغام جاری کیا گیا جس میں ان کی صلاحیتوں کا زوردار انداز میں اعتراف کیا گیا۔ مختلف یونیورسٹیوں کے سائنسدانوں اور اساتذہ کی جانب سے بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس