1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریاست راکھین سے ایمرجنسی اٹھا لی گئی

میانمار کے صدر نے تناؤ کی شکار رہنے والی ریاست راکھین سے ایمرجنسی کے خاتمے کا حکم آج منگل کے روز جاری کیا ہے۔ اس ریاست میں بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی فسادات کے بعد ایمرجنسی لگائی گئی تھی۔

میانمار کی مغربی ریاست راکھین سے یہ ایمرجنسی ایک ایسے وقت پر اٹھائی گئی ہے جب آنگ سان سوچی کی نئی حکومتی انتظامیہ اور ریاست راکھین کی طاقتور بدھ سیاسی جماعت کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

میانمار کی ریاست راکھین 2012ء میں بدھ مت کے ماننے والوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان مذہبی فسادات شروع ہونے کے بعد سے فرقہ ورانہ تشدد کا شکار رہی ہے۔ اس ریاست کی صورتحال میانمار کی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پہلی بار عوامی حمایت سے منتخب ہونے والی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک غیر متوقع پیشرفت کے طور پر اپنی مدت صدارت ختم کرنے والے صدر تھان سین نے آج منگل 29 مارچ کو ریاست راکھین سے ایمرجنسی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کو بے گھر کرنے والے فسادات کے بعد حکومت نے جون 2012ء میں اس ریاست میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

ایمرجنسی اٹھانے کے حوالے سے جاری ہونے والے صدارتی بیان میں کہا گیا ہے، ’’ریاست راکھین کی حکومت کے مطابق اس وقت لوگوں کی زندگیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔‘‘ ایمرجنسی کے خاتمے سے وہاں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات فوج کو واپس بُلا لیا جائے گا۔

بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کو بے گھر کرنے والے فسادات کے بعد حکومت نے جون 2012ء میں اس ریاست میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی

بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کو بے گھر کرنے والے فسادات کے بعد حکومت نے جون 2012ء میں اس ریاست میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی

اے ایف پی کے مطابق راکھین میں گزشتہ دو برس سے کسی قسم کا تشدد تو نہیں پھوٹا مگر یہ ریاست مذہبی بنیادوں تقسیم ضرور ہے۔ زیادہ تر مسلمان یا تو کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں یا پھر انہیں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب شدید حفاظتی علاقوں میں رکھا گیا ہے۔

میانمار میں بدھ مت کے ماننے والوں میں بڑھتی ہوئی قومیت پسندی کے باعث ملک کی اقلیتی مسلمان آبادی کے خلاف امتیاز بڑھ رہا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے۔ میانمار کے قوانین کی رُو سے روہنگیا بغیر ریاست کے شہری ہیں اور جنہیں گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنے کا حق بھی نہیں دیا گیا تھا۔

امتیازی سلوک کا نشانہ بننے والے یہ روہنگیا مسلمان ہزاروں کی تعداد میں ہمسایہ ممالک کا رُخ کر چکے ہیں جن میں تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔

ایمرجنسی کے خاتمے کا یہ صدارتی حکم سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے خلاف اے این پی نامی جماعت کے ارکان پارلیمان کی طرف سے احتجاج کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ یہ احتجاج این ایل ڈی کی طرف سےاپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی امیدوار کو ریاست راکھین کا وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔ اے این پی میانمار کی ایک مضبوط ترین اقلیتی سیاسی جماعت ہے۔