1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ریئرارتھ میٹلز کے استعمال کم کرنے کے لیے نئی الیکٹرک موٹر

جاپانی کارساز ادارے ٹویوٹا موٹرز نے کہا ہے کہ وہ نئی قسم کی بجلی سے چلنے والی ایک ایسی موٹر کی تیاری میں مصروف ہے جس میں مقناطیس کے طور پر ریئرارتھ میٹل کا استعمال بہت کم ہوجائے گا۔

default

ماہرین کے مطابق ٹویوٹا موٹرز کے اس منصوبے سے نہ صرف ریئرارتھ میٹریلز پر انحصار کم ہوجائے گا بلکہ اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

دنیا میں سب سے زیادہ ہائبرڈ کاریں فروخت کرنے والے اس ادارے کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ایک ایسی موٹر تیار کررہا ہے جو عام طور پر کچن میں موجود مکسر وغیرہ میں استعمال ہونے والی انڈکشن موٹرز کے طرز پر کام کرے گی۔ ان موٹروں میں مستقل اور مہنگے مقناطیس کی بجائے الیکٹرومیگنیٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔ الیکٹرومیگنیٹس دراصل اتنے ہی وقت کے لیے بطور مقناطیس کام کرتے ہیں، جب تک ان میں کرنٹ کا بہاؤ جاری رہتا ہے۔

ٹویوٹا کی طرف سے یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ وہ کس قسم کے انجن پر کام کررہی ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ کم مقناطیس کے استعمال سے ٹویوٹا نیوڈیمیئم سمیت دیگر ریئرارتھ مٹیلز پر اپنا انحصار کم کرلے گی۔ زیادہ تر چین میں پائے جانے والا یہ ریئرارتھ میٹل ہائبرڈ اور الیکٹرک کار موٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔

Deutschland Autoindustrie IAA Toyota Prius Plug-In Hybrid Bildgalerie 12

ٹویوٹا سال 2012ء میں مکمل طور پر الیکٹرک کار متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے

ریئرارتھ میٹلز زیادہ تر الیکٹرونک مصنوعات وغیرہ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں فلیٹ سکرین ٹیلی وژن سے لے کر جدید دفاعی سازوسامان وغیرہ شامل ہے۔ چین کی طرف سے ریئرارتھ میٹلز کی دیگر ملکوں کو فراہمی میں کمی کے اعلان سے بین الاقوامی ہائی ٹیک کمپنیز کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ٹویوٹا کمپنی کے ترجمان پاؤل نولاسکوکے مطابق نئے طرز کی موٹر کی تیاری سے اس کمپنی کا مقناطیس پر انحصار کم ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹویوٹا وسائل کو کم سے کم استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ بہتر حاصل کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے اور نئی موٹر یا تحفظ ماحول کے حوالے سے کوئی بھی کوشش دراصل اسی کا تسلسل ہے۔

یہ جاپانی کارساز ادارہ سال 2012ء میں مکمل طور پر الیکٹرک کار متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ جبکہ ہائیڈروجن فیول سیل کی مدد سے چلنے والی کار 2015ء میں متعارف کرائی جائے گی۔ نولاسکو کے بقول مقناطیس کے بغیر موٹر کی تیاری دراصل بجلی سے چلنے والی موٹروں میں بہتری کی کوششوں کا حصہ ہے۔

جاپان ریئرارتھ میٹلز کے حوالے سے اپنی 90 فیصد ضروریات کے لیے چین پرانحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی طرف سے ان دھاتوں کی برآمد کے کوٹے میں کمی اس کی ہائی ٹیک صنعت کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس