1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رہائی کے بعد سُوچی کا پہلا اندرون ملک دورہ

میانمار کی اپوزیشن لیڈر آنگ سان سُو چی طویل عرصے کی نظر بندی کے خاتمے کے بعد پہلی بار اندرون ملک دورہ کر رہی ہیں۔ امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی لیڈر اپنے بیٹے کے ہمراہ آج میانمار کے قلب میں واقع قدیم شہر باگان گئیں۔

default

آنگ سان سوچی اپنے بیٹے کے ہمراہ باگان پہنچیں

باگان شہر مانڈالے ڈویژن میں واقع ہے اور یہاں واقع متعدد مندروں کے باعث اسے مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ باگان ہوائی اڈے پر سُوچی اور اُن کے بیٹے کِم آرس کا استقبال وہاں کے مقامی باشندوں نے نہایت گرم جوشی سے کیا۔ اس موقع پر آنگ سان سُوچی کے بیٹے نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا، ’گزشتہ 13 برسوں میں یہ میری پہلی تعطیلات ہیں‘۔ 33 سالہ برطانوی نژاد کِم آرس کا کہنا تھا کہ اُن کو والدہ کو بھی ایک طویل عرصے کے بعد ایک بریک چاہیے تھا۔

Myanmar Burma General Thein Sein

میانمار کی ملٹری جنتا سوچی کی سیاسی مہم کو دبانے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہے

گزشتہ 20 سالوں سے سوچی کا زیادہ تر وقت نظر بندی میں ہی گزرا۔ 2010ء نومبر میں اُنہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ 1990ء میں سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی NLD کو انتخابات میں فتح حاصل ہوئی تھی تاہم میانمار کی فوجی حکومت نے الیکشن کےنتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے فوجی حکمرانوں نے سُوچی کو ملک گیر سیاسی دورے سے خبر دار کیا تھا۔ فوجی قیادت نے سُوچی کی پارٹی کو سیاست سے علیٰحدہ رہنے کی تاکید بھی کی تھی اور دھمکی دی تھی کہ آنگ سان سُوچی کا سیاسی دورہ ملک میں فسادات اور ہنگامہ آرائی کا سبب بنے گا۔

Parlament Myanmar in Nay Pyi Taw

میانمار کی پارلیمان کی عمارت

دریں اثناء باگان پہنچنے پر سُوچی نے میڈیا کو کسی قسم کا بیان دینے سے گریز کیا۔ مندروں کے اس شہر پہنچنے پر وہ سیدھے ہوٹل چلی گئیں۔ گزشتہ ہفتے سُوچی سے ملاقات کرنے والے آسٹریلوی وزیر خارجہ کیون رڈ نے میانمار حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ سُوچی کے سفری دورے کے دوران انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ اُن کے بقول’ میرا خیال ہے کہ اس وقت تمام دنیا اس امر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے کہ سُوچی کو میانمار حکومت کی طرف سے کس حد تک تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ کیون رڈ گزشتہ ہفتے کے روز سنگاپور میں تھے، جہاں انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’سُوچی کے لیے سکیورٹی انتظامات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ 2003 ء میں ایک سیاسی ریلی کے دوران اُن کے قافلے پر ایک خوفناک حملہ ہوا تھا۔ ان حملوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فوجی حکومت نے کروائے تھے‘۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس