1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رہائی کے بعد ایران سے امریکی شہریوں کی واپسی

ایران سے رہائی پانے والے دو امریکی شہری براستہ عمان اپنے وطن امریکہ کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ تہران حکومت نے ان دونوں کو بدھ کے دن ضمانت پر رہا کیا تھا۔

default

جوش فیٹل اور شین باؤر

جوش فیٹل اور شین باؤر کی رہائی پر امریکی صدر باراک اوباما نے نیو یارک میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیشرفت پر خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ دونوں کے گھر والوں کی طرف سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،’ یہ ہماری زندگیوں کا ایک بہترین دن ہے‘۔

شین باؤر اور جوش فیٹل، جو دونوں ہی انتیس انتیس برس کے ہیں، دو برس قبل اپنی ایک خاتون ساتھی سارا شرود کے ہمراہ ایران سے اس وقت گرفتار کر لیے گئے تھے، جب وہ غلطی سے عراق سے ایرانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ تہران حکومت نےان پر غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جاسوسی کی غرض سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔

ان دونوں امریکی شہریوں کو ایسے وقت میں رہا کیا گیا ہے، جب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکی شہر نیو یارک میں موجود ہیں۔

Iran USA Tremper freigelassen in Teheran

جوش فیٹل، سارا شرود اور شین باؤر

جوش فیٹل اور شین باؤر ایران سے رہائی پانے کے بعد جب عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے تو وہاں ان دونوں نے صحافیوں سے مختصر سی گفتگو کی۔ فیٹل نے اومان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا،’ ہم بہت خوش ہیں کہ ہمیں آزاد کر دیا گیا ہے‘۔ ان دونوں کی رہائی کے لیے اومان حکومت نے خصوصی کردار ادا کیا۔

باؤر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’جیل میں دو برس کا عرصہ بہت طویل تھا۔ ہم ایران اور امریکہ میں قید سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے خلوص دل کے ساتھ دعا گو ہیں‘۔

جوش فیٹل، شین باؤر اور سارا شرود کو اکتیس مئی 2009 کو ایرانی پولیس نے اس وقت اپنی حراست میں لیا تھا، جب وہ کوہ پیمائی کرتے ہوئے شمالی عراق سے ایرانی سرحدوں میں داخل ہوئے تھے۔ سارا کو طبی وجوہات کی بناء پر تقریباً ایک سال پہلے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا تاہم تہران کی ایک عدالت نے فیٹل اور باؤر کو جاسوسی کے الزام میں اکیس اگست کو آٹھ آٹھ برس کی قید کی سزا سنائی تھی۔

ان امریکی شہریوں کی گرفتاری پر تہران اور واشنگٹن حکومتوں کے مابین پائے جانے والی سرد مہری میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ اگرچہ ناقدین کے خیال میں ان امریکیوں کی رہائی سے روایتی حریف ممالک امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری کے امکانات ہو سکتے ہیں تاہم ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکیوں کی رہائی کا فیصلہ یک طرفہ بنیادوں پر صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے کیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس