1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رچرڈ ہالبروک، پاک و افغان کے لئے خصوصی ایلچی مقرر

رچرڈ ہالبروک کی پاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے تقرری نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ایجنڈے میں بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ کو اولین ترجیح حاصل ہے۔

default

امریکی سفارت کار رچرڈ ہالبروک سفارت کاری میں مہارت رکھتے ہیں

دفتر خارجہ نے ایک پالیسی بیان میں ہالبروک کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ مبصرین نے بھی اسے علاقے کے امن اور سلامتی کے لئے نیک شگون اور اہم قرار دیا ہے ۔

سابقہ خارجہ سیکرٹری شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اس خطے میں صرف طاقت کے استعمال کو مسائل کا حل نہیں سمجھتی اور آئندہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں اور منحرف دھڑوں کے ساتھ مذاکرات بھی کئے جائیں گے۔

شمشاد احمد کے بقول رچرڈ ہال بروک کے سفارتی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس خطے کے اندر کشیدگی میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا ”ان کے پاس وہ سفارتی مہارت اور تجربہ ہے جسکے ساتھ مسائل کے حل کی طرف پیشرفت کی جا سکتی ہے ۔ “شمشاد احمد کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی صورتحال ان مسائل سے مختلف ہے جن مسائل سے رچرڈ ہال بروک اب تک ڈیل کرتے آئے ہیں خاص طور پر بوسنیا سے۔انہوں نے کہا ” لیکن پھر بھی ان کی شخصیت کے پیش نظر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک اہم کردار ادا کریں گے“ ۔

دوسری طرف بعض حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ کرسی صدارت سنبھالنے کے دوسرے ہی روز صدر اوباما نے پاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی نمائندے کے تقرر سے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ شدت پسندی کے مسئلے کا جلد اور دیر پا حل چاہتے ہیں۔ تجزیہ نگار ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق ہال بروک کی پہلی ترجیح پاکستان سے نیٹو افواج کے لئے سپلائی لائن بحال رکھنا ہو گی تا کہ طالبان اور دیگر متحارب دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے کوئی کمزوری دکھائی نہ دے ۔

انہوں نے کہا ” کوشش یہ کی جائے گی کہ طالبان کی دھڑے بندی کی جائے اور طالبان کو القاعدہ سے الگ کیا جائے اور القاعدہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔“

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ رچرڈ ہالبروک کی تعیناتی سے قطع نظر اصل سوال یہ ہے کہ باراک اوباما کی زیر قیادت افغانستان اور قبائلی علاقوں کے حوالے سے امریکی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی بھی تبدیل ہوتی ہے کہ نہیں کیونکہ وزیرستان پر جمعہ کے روز تازہ ترین میزائل حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل قریب میں رکنے والا نہیں۔