1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رچرڈ ہالبروک اور مائیکل مولن کا دورہ پاکستان

رچرڈ ہالبروک اور مائیکل مولن کے دورہ اسلام آباد کا مقصد بظاہر خطے کےلئے نئی امریکی پالیسی پر پاکستان کی فوجی اور سویلین قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔

default

امریکی مندوب برائے افغانستان اور پاکستان

اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں عہدیداروں نے صدر، وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ مسلم لیگ کے رہنما میاں نوازشریف کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ منگل کے روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں امریکی عہدیداروں نے نئی امریکی پالیسی کو مثبت اور تعمیری قرار دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان میں قیام امن اور استحکام میں مدد ملے گی۔ رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کو مشترکہ دشمن اور چیلنجوں کا سامنا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔

رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ٹوکیو میں 17 اپریل کو ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس میں بھی ان کی حکومت بھرپور شرکت کرے گی۔

اس موقع پر ایڈمرل مولن نے کہا کہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ وابستگی طویل المیعاد ہے اور باہمی اعتماد کو بڑھا کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی علاقوں پر ڈرون حملوں کے بارے میں ایک سوال پر مائیکل مولن نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے نئے چیلنجوں کو سمجھنا ہے تاہم ڈرون حملے کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس معاملے پر دونوں اطراف کے موقف میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور وہ یہ مسئلہ آئندہ ماہ امریکہ میں ہونے والی سہ فریقی کانفرنس میں بھی اٹھائیں گے۔

Obama besucht Camp Lejeune

امریکی صدر باراک اوباما پاکستان اور افغانستان سے متعلق پالیسی کے اعلان کے دوران ان کے پیچھے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور امریکی افواج کے سربراہ مائیکل مولن بھی کھڑے ہیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے البتہ یہ کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے اور دہشت گردی کے حوالے سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا ضروری ہے۔

ایڈمرل مولن اور رچرڈ ہالبروک نے گزشتہ شب پاکستانی دانشوروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے اور اقتصادی امداد میں اضافے کا عندیہ دیا۔ ملاقات میں شامل ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ دونوں رہنمائوں نے اس محفل میں اعتراف کیا کہ ماضی میں امریکی انتظامیہ سے متعدد غلطیاں سرزد ہوئیں اور انہی غلطیوں کے ازالے کے لئے امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ طویل المیعاد شراکت کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔