1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رٹا بازی: اچھے نمبروں کی ضامن نہیں

جرمن ماہرین کے مطابق دوران پڑھائی رٹا لگانے سے کوئی بھی طالب علم اچھے نمبر حاصل نہیں کرسکتا ہے، اس لیے امتحانات میں اچھے نمبروں سے کامیابی کے لیے جامع پڑھائی ناگزیر ہے۔

default

جو طالب علم رٹا لگاتے ہیں ان کو اپنا سبق کبھی بھی یاد نہیں ہوتا اور وہ امتحانوں میں زیادہ غلطیاں کرتے ہیں، کیونکہ رٹا بازی سے معلومات اگرچہ وقتی طور پر ذہن میں تو رہتی ہیں تاہم وہ بہت جلد دماغ سے غائب بھی ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اچھے گریڈ سے پاس ہونے کے لیے آخری وقت کی پڑھائی سے بہتر ہے کہ طالب علم روزانہ مکمل اور جامع پڑھائی کریں۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں نہ صرف معلومات ذہن میں ثبت ہو جاتی ہیں بلکہ طالب علموں کو پریشانی سے بچنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔

حافظے سے متعلق رٹا لگانے کے عمل پر کی گئی مختلف تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رٹا کسی بھی بات ، لفظ اور واقعہ کو بغیر سوچے سمجھے حافظے میں محفوظ کر لیتا ہے اور یہ ایک عارضی عمل ہوتا ہے، جومختصر دورانیہ میں ہی ذہن سے نکل جاتا ہے جبکہ ایسی معلومات کو سمجھ کر ذہن میں محفوظ کرنے سے وہ ذہن پر طویل وقت کے لیےثبت ہو جاتی ہیں اوران کو دوبارہ یادداشت میں لانا آسان بھی ہوتا ہے۔

Schulkinder in einem Bagdader Armenviertel

رٹا بازی سے کامیابی کے امکانات بہت ہی کم ہیں

جرمنی میں واقع ٹیکنکل یونیورسٹی آف براؤن شوائگ سے وابستہ پروفیسرمارٹین کورٹے کہتے ہیں،' ہر کوئی پڑھ سکتا ہے۔ لیکن جب کوئی طالب علم اس دوران منفی طریقہ کار اختیار کرتا ہے تواس کے نتائج بھی برے نکلتے ہیں۔' پروفیسر مارٹین کہتے ہیں کہ پڑھتے ہوئے بچوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ آخر پڑھنا کیوں چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر طالب علم یہ سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ یہ پڑھائی ان کےبعد کی زندگی میں نہایت معاون ثابت ہو گی تو وہ کبھی بھی رٹا نہیں لگائیں گے۔

برلن میں تعلیمی شعبےکے ماہر Albrecht Kresse کہتے ہیں کہ پڑھائی سے قبل طالب علموں کو ایک مقصد طے کر لینا چاہیے کہ وہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں، وہ بعد میں کس طرح ان کے کام آسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی انگریزی زبان پڑھ رہا ہے تو وہ اس بات کا خیال رکھے کہ جو کچھ وہ یاد کر رہا ہے، اسے وہ اپنے غیر ملکی دوستوں کے ساتھ گفتگو میں کس طرح استعمال کر سکتا ہے۔

ماہر تعیلم کے خیال میں جامع پڑھائی ہرحال میں رٹے سے بہتر ہے کیونکہ اس سے نہ صرف آپ اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ یہ بعد میں آپ کی عملی زندگی میں بھی کامیابی کی ضمانت ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM