1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ريڈ خميرکے سابق جيل ناظم کو سزا

کمبوڈيا ميں ريڈ خمير کی بے رحمانہ حکومت کے خاتمے کے 30 سال بعد پیر کے روز اس کے ايک قيادتی رکن اور اذيت دہی کے لئے مشہور سابق جيل تول سلينگ کے ناظم کامریڈ ڈوک کو 35 سال قيد کی سزا سنا دی گئی۔

default

ريڈ خمير کی اذيت دہی کا شکار ہونے والا ايک شخص عدالت ميں

’کامریڈ ڈُوک‘ کو يہ سزا انسانيت کے خلاف جرائم پر سنائی گئی ہے۔ کمبوڈيا ميں ريڈ خمير ٹريبونل کے نام سے معروف عدالت کے نزديک يہ ثابت ہو گيا ہے کہ آج 67 سالہ ڈُوک 12 ہزار سے زائد قيديوں کی کربناک موت کا ذمہ دار ہے اور اس نے عمداً قيديوں کو اذيتوں کا نشانہ بنايا تھا۔

ريڈ خمير کے جرائم کی تحقيقات کرنے والی اس خصوصی عدالت کے چيئرمين جج نيل نون نے کہا: ’’ٹريبونل کے ججوں کو استغاثہ سے اتفاق ہے کہ ڈُوک ان کئی افراد ميں سے ايک ہے، جن پر ريڈ خمير کے دور ميں بد ترين جرائم کا الزام ہے۔ ججوں کی اکثريت ملزم کو 35 سال کی سزا دينے کی حامی ہے۔‘‘

ایذا رسانی کے لئے مشہور ایک سابقہ جيل کے ناظم ڈُوک کو سزا ميں پانچ سال کی رعايت دی گئی ہے کيونکہ ايک فوجی عدالت نے سن 1999 ميں اسے غير قانونی طور پر سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ اب تک جيل ميں گذاری جانے والی کُل 11 سال کی مدت کو بھی شمار کيا جائے گا۔ اس طرح اگر پیر کا عدالتی فيصلہ عملی شکل اختيار کرتا ہے، تو ڈُوک کو مزید تقريباً 18 سال جيل ميں گذارنا ہوں گے۔

جيل ميں اذيت ناک موت کا شکار ہونے والے قیدیوں کے نمائندوں اور اُن کے پسماندگان نے، جنہيں عدالت نے ذيلی مدعيوں کے طور پر تسليم کيا، عدالتی فيصلے پر تنقيد کی ہے۔ انہيں ڈُوک کو سنائی جانے والی اس سے زيادہ سخت سزا کی توقع تھی۔ ريڈ خمير کی وحشيانہ حکومت کے دوران اپنے دو بھائيوں سے محروم ہوجانے والے چُم سرات نے کہا: ’’يہ فيصلہ ہمارے خدشات سے بھی زيادہ خراب ہے۔ صرف ايک قتل پر بھی 99 سال کی سزا ملتی ہے۔ اس نے 10 ہزار سے زائد انسانوں کو قتل کيا اور سزا صرف 18 سال؟‘‘

ٹريبونل کی سربراہی کرنے والے جج نے کہا کہ سزا کے تعين کے سلسلے ميں جرم کی سنگينی اور متاثرين کی کثير تعداد کومد نظر رکھا گيا ہے۔ عدالت نے ڈُوک کے اظہار ندامت، مرنے والے قيديوں کے پسماندگان سے معافی مانگنے اور عدالت کے ساتھ اس کے تعارن کی وجہ سے اس کی سزا ميں نرمی برتی۔ تاہم چُم نے کہا کہ ڈُوک کی معذرت حقيقی نہيں اور یہ صرف ايک چال ہے۔

ريڈ خمير ٹريبونل ميں ابھی سابقہ ريڈ خمير کے مزيد چار قائدين کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونا باقی ہے۔ موجودہ فيصلے کے خلاف مدعی اور ملزم دونوں ہی اپيلیں دائر کر سکتے ہيں۔

رپورٹ: بيرنڈ مش بورووسکا / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM