1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا مہاجرین: بنگلہ دیشی بھارتی سرحد کی نگرانی میں اضافہ

بنگلہ دیشی دستوں نے مغربی بھارت کے ساتھ ملکی سرحد کی نگرانی سخت تر کر دی ہے تاکہ بھارت سے ان ہزاروں روہنگیا مسلم مہاجرین کے بنگلہ دیش میں داخلے کو روکا جا سکے، جنہیں ممکنہ طور پر بھارتی حکام سرحد پار دھکیل سکتے ہیں۔

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا سے اتوار پندرہ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی حکام کو تشویش ہے کہ میانمار سے اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والے اور اس وقت بھارت میں موجود روہنگیا مہاجرین میں سے ہزاروں کو جبراﹰ سرحد پار بنگلہ دیشی علاقے میں بھیجا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیشی کیمپ میں چار روہنگیا ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے

جنسی حملوں کے شکار روہنگیا بچے بنگلہ دیش پہنچ کر بھی خوف زدہ

روہنگیا لڑکی اور بنگلہ دیشی مرد کی محبت کی کہانی، جوڑا روپوش

بنگلہ دیشی سرحدی دستوں ’بارڈر گارڈ بنگلہ دیش‘ کے ایک علاقائی کمانڈر طارق الحکیم نے بتایا کہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ساتھ ملنے والی ملکی سرحد کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کی وجہ سرحد پار سے ملنے والی یہ رپورٹیں بنیں کہ بھارتی دستوں کو یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے روہنگیا مہاجرین کو بنگلہ دیش کی طرف بھیجنا شروع کر دیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:12

بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کے مصائب

لیفٹیننٹ کرنل طارق الحکیم نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی سرحدی علاقے میں روہنگیا مہاجرین کی تعداد مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر پُٹکھلی کی سرحدی چوکی والے علاقے میں۔ اس جگہ پر صرف ایک چھوٹا سا دریا ہی دونوں ممالک کے مابین سرحد کا کام دیتا ہے۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بھارت میں روہنگیا مسلم مہاجرین کی تعداد قریب چار لاکھ بنتی ہے اور نئی دہلی حکومت چاہتی ہے کہ انہیں جلد از جلد ملک بدر کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں بھارتی حکومت کی طرف سے ملک کی ایک اعلیٰ عدالت کو گزشتہ ماہ ستمبر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ روہنگیا باشندے بھارتی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے کمانڈر طارق الحکیم نے مزید کہا کہ ان دونوں جنوبی ایشیائی ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا موجود ہیں، جو بنگلہ دیش میں مزید کئی لاکھ روہنگیا مہاجرین کی آمد کے بعد یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے اہل خانہ کے ساتھ مل جائیں۔ اس طرح بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سرحدی علاقے میں ان مہاجرین کی غیر قانونی آمد و رفت کی ایک نئی لہر شروع ہو سکتی ہے۔

بنگلہ دیش میں دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ، ’منصوبہ خطرناک‘

روہنگيا مسلمان ميانمار واپسی کے حوالے سے تحفظات کا شکار

روہنگیا افراد کا ’ڈراؤنا خواب‘ ختم کیا جائے، گوٹیرش

میانمار کی ریاست راکھین میں اگست کی 25 تاریخ سے خونریزی کی جو تازہ لہر جاری ہے، اس دوران قریب پانچ لاکھ چھتیس ہزار روہنگیا اقلیتی مسلمان سرحد پار کر کے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے راکھین میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی روہنگیا مسلم برادری کے خلاف ان خونریز کارروائیوں کو ’نسلی تطہیر‘ کا نام دیا جا چکا ہے۔

اسی دوران بنگہ دیش اور بھارتی ریاست مغربی بنگال کے درمیان سرحد پر فرائض انجام دینے والے ایک بھارتی بارڈر گارڈ نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمیں ملنے والے یہ احکامات بالکل واضح ہیں کہ بھارتی علاقے سے تمام روہنگیا باشندوں کو زبردستی سرحد پار بنگلہ دیشی علاقے میں بھیج دیا جائے۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic