1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا مسلمانوں کے کئی دیہات مسمار اور نذر آتش، سیٹلائٹ تصاویر

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے پتا چلا ہے کہ میانمار کے شمال مغرب میں ملٹری کریک ڈاؤن کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے کئی دیہات جلا دیے یا پھر مسمار کر دیے گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے پیر کے روز کہا ہے کہ بنگلہ دیشی سرحد کے قریب روہنگیا اقلیت کے تقریبا 1250 عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ قبل ازیں میانمار حکومت نے کہا تھا کہ مبینہ ’’عسکریت پسندوں‘‘ کے تین سو سے کم گھر مسمار کیے گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے براعظم ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے سیٹلائٹ تصاویر کو ’’خطرے کی گھنٹی‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دیہات میں جلتے ہوئے گھروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’بظاہر پانچ دیہات میں مسلح حملے کیے گئے ہیں، جو کہ گہری تشویش کی بات ہے۔ برما کی حکومت کو تفتیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘‘

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقریبا گیارہ لاکھ بنتی ہے اور ان کی زیادہ تر تعداد راکھین کے علاقے میں آباد ہے۔ انہیں نہ تو شہریت رکھنے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی انہیں بنیادی حقوق فراہم کیے جاتے ہیں۔ میانمار کی زیادہ تر آبادی بدھ مت ہے اور وہ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش کے غیر قانونی تارکین وطن سمجھتے ہیں۔

حکومت پر دباؤ

تازہ ترین تشدد کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب نو اکتوبر کو تین سرحدی پوسٹوں پر مسلح افراد نے حملہ کرتے ہوئے تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری روہنگیا مسلمانوں پر عائد کی گئی تھی۔ حکومت کے کریک ڈاؤن میں کم از کم ستر روہنگیا ہلاک جبکہ چار سو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق متاثرہ افراد کی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کم از کم 30 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ فوجی جنسی زیادتی کے واقعات بھی ملوث رہے۔ 

میانمار میں اس وقت نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی حکومت قائم ہے۔ بہت سے مبصرین ان کی انتظامی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ابھی تک برما حکومت انسانی حقوق کے مبصرین کو بھی متاثرہ علاقوں تک رسائی فراہم نہیں کر رہی جبکہ متاثرہ علاقوں میں صحافیوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔

DW.COM