1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا مسلمانوں پر مبینہ ظلم و ستم، چھان بین کا سلسلہ شروع

اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار برائے میانمار یانگھی لی شورش زدہ صوبے راکھین پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ ملکی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے روہنگیا مسلمانوں پر مبینہ ظلم و ستم کی چھان بین کریں گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار برائے میانمار یانگھی لی اپنے بارہ روزہ دورے کے دوران روہنگیا مسلم برادری پر بڑھتے ہوئے تشدد کی چھان بین کرنے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کریں گی۔ انہیں بدھ بنیاد پرستوں سے خطرات لاحق ہیں جبکہ ان کے گزشتہ دورہ میانمار کے دوران انہی بنیاد پرستوں نے لی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ لی کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر تشویش کے اظہار پر انہیں اس ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

روہنگیا حملہ آوروں کے پاکستان میں رابطے ہیں، کرائسس گروپ

نوبل امن انعام یافتہ سوچی روہنگیا مسلمانوں کی ’نسل کشی‘ رکوائیں، نجیب رزاق

دس ہزار روہنگیا جان بچا کر میانمار سے بنگلہ دیش پہنچ گئے

میانمار بالخصوص راکھین میں روہنگیا مسلمان کمیونٹی کو مبینہ فوجی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ بنگلہ دیش فرار ہونے والے روہنگیا افراد نے بتایا ہے کہ ملکی فوجی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں جبکہ مردوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان روہنگیا مسلمانوں نے یہ بھی بتایا کہ راکھین میں ان کی املاک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق انہی پرتشدد کارروائیوں کے باعث کم ازکم 65 ہزار روہنگیا باشندے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور بھی ہو چکے ہیں۔

راکھین صوبے میں حکمران سیاسی جماعت اے این سی سے وابستہ سنیئر سیاستدان Khine Pyi Soe نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کی جماعت کا کوئی بھی رکن لی سے نہیں ملے گا، ’’انہوں نے ہم سے ملنے کی پیشکش کی ہے لیکن ہمارا ان سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ یہ سیاستدان ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ روہنگیا کمیونٹی کے کسی بھی فرد کو میانمار کی شہریت نہیں دی جانا چاہیے۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ پارلیمان کی سطح پر کی جانے والی ایسی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی جائے گی۔

راکھین کا شمالی علاقہ گزشتہ برس اکتوبر سے میانمار کی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ حکومت اس صوبے میں بدامنی کے لیے روہنگیا باغیوں کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملکی فوج اس علاقے میں سرحدی پولیس چوکیوں پر حملوں میں ملوث مشتبہ روہنگیا باغیوں کی تلاش میں ہے۔ اس صورتحال میں میانمار کی جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ نوبل امن انعام یافتہ سوچی نے ابھی تک اس شورش پر کوئی براہ راست بیان تک بھی جاری نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار برائے میانمار یانگھی لی نے راکھین کی صورتحال کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس صوبے میں مسلمان اقلیت کے ساتھ جنسی زیادتی، قتل، ظلم و ستم اور لوٹ مار کے الزامات کی آزادانہ طور پر تحقیقات کرائی جانا چاہییں۔ میانمار روانہ ہونے سے قبل اس خاتون سفارت کار نے کہا کہ راکھین کی صورتحال ابتر ہو رہی ہے اور اس تناظر میں عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

DW.COM