1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد، سُوچی اور یورپی یونین میں اختلافات

آنگ سان سُوچی نے اقوام متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کے اُس فیصلے کو رَد کر دیا ہے، جس میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تاہم روہنگیاں مسلمانوں کے حوالے سے ان کے اور یورپی یونین میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آج برسلز میں سُوچی نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدیریکا موگرینی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانمار ایسا کوئی تحقیقاتی مشن بھیجنے کے فیصلے سے متفق نہیں ہے۔

اس کے جواب میں یورپی یونین کی اعلیٰ ترین سفارت کار موگرینی نے سُوچی کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے میانمار پر اس مشن کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے زور دیا۔ موگرینی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مشن کے ساتھ تعاون کرنے سے ان الزامات سے متعلق پائی جانے والی بے یقینی ختم ہو جائے گی کہ روہنگیا مسلمانوں کو قتل، عصمت دری اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں مارچ میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ راکھین نامی ریاست میں قتل، آبرو ریزی اور تشدد کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشن روانہ کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں میانمار کے حوالے سے یہ قرار داد یورپی یونین نے ہی پیش کی تھی اور اسے ویٹو کے بغیر ہی قبول کر لیا گیا تھا۔ اس دوران چین اور بھارت نے ووٹ دینے کا اپنا حق محفوظ رکھا تھا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے ماہرین کا کہا تھا کہ اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ میانمار کی فورسز انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

DW.COM