1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا: ’فوج نے ایک چھوٹے سے بچے کو بھی نہیں بخشا‘

مقامی آبادی کے مطابق میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں پر ’بلاتفریق‘ گولیاں برسا رہی ہے جبکہ ہزاروں روہنگیاں فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔ میانمار حکومت کے مطابق باغی خود گھروں کو آگ لگا رہے ہیں۔

میانمار کی نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے پیر کے روز الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا باغی گھروں کو آگ لگا رہے ہیں اور کم عمر بچوں کو بطور فوجی استعمال کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے میانمار حکومت نے اپنے فیس بک پیج پر تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ دوسری جانب میانمار کی ریاست راکھین کے مسلح باغیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

میانمار کی روہنگیا اقلیت کو ایک عرصے سے امتیازی سلوک اور نسلی تشدد کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں روہنگیا کے ایک غیرمعروف عسکری گروپ نے ملکی سکیورٹی فورسز پر حملے کیے تھے، جس کے بعد میانمار کی سکیورٹی فورسز نے روہنگیا اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس کے بعد سکیورٹی فورسز پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا۔

روہنگیا کو بھارت سے نہ نکالا جائے، انسانی حقوق کی تنظیمیں

تازہ ترین جھڑپوں کا آغاز گزشتہ جمعے کے روز اس وقت ہوا تھا جب مسلح باغیوں نے گھات لگا کر ملکی سکیورٹی فورسز پر نئے حملے کیے تھے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تازہ جھڑپوں میں کم از کم 104 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے اور ان میں مبینہ طور پر اسی کے قریب باغی شامل ہیں۔

Bangladesch Rohingya Flüchtlinge bei Cox’s Bazar (Reuters/M. Ponir Hossain)

ایک بنگلہ دیشی فوجی روہنگیا بچی کو ملکی سرحد میں داخل ہونے سے روک رہا ہے

ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی طرف فرار ہو گئے ہیں جبکہ مقامی بدھ مت اور ہندو بھی متاثرہ علاقوں سے نکل کر محفوط مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ مونگدو کے ایک رہائشی عزيز خان کا کہنا تھا کہ جمعے کے روز سرکاری فوجی ان کے گاؤں میں داخل ہوئے اور انہوں نے ’بلا تفریق‘ گولیاں برسانے کا عمل شروع کر دیا، ’’حکومتی فورسز اور سرحدی پولیس نے میرے گاؤں میں کم از کم گیارہ افراد کو ہلاک کیا۔ جو چیز بھی ان کو ہلتی نظر آئی اس کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد کچھ فوجیوں نے آگ لگائی۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی تھیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک چھوٹے سے بچے کو بھی نہیں بخشا۔‘‘

میانمار کی حکومت مقامی باغیوں کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے جبکہ مقامی رہائشی ملکی فوج پر پرتشدد کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ جن دیہات میں لڑائی جاری ہے، وہاں ان واقعات کی تصدیق کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

 سن دو ہزار سولہ میں میانمار کی ریاست راکھین میں شروع ہونے والے پر تشدد واقعات اور روہنگیا کے خلاف اقدامات کے بعد سے اب تک ستاسی ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی طرف سے روہنگیا کے خلاف میانمار حکومتی فورسز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس عالمی ادارے کی تحقیقات کے مطابق روہنگیا آبادی کے خلاف حکومتی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آسکتی ہیں۔

DW.COM