1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا بحران کے خاتمے کا آخری موقع، گوٹیرش کی سوچی کو تنبیہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے مطابق میانمار کی رہنما سوچی کے پاس روہنگیا بحران کے خاتمے کا بس ایک آخری موقع بچا ہے۔ اب تک چار لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن اور آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے اتوار سترہ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے برطانیہ کے ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آج کہا کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں اگست کے اواخر میں شروع ہونے والی تازہ ترین خونریزی کے دوران اب تک ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو جانے والے روہنگیا باشندوں کی تعداد چار لاکھ دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ابھی ایسے ہزاروں نئے مہاجرین روزانہ بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔

Schweiz | UN-Zypern-Konferenz endet ohne Ergebnis verkündet UN-Generalsekretär Guterres

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اںٹونیو گوٹیرش

روہنگیا مسلمانوں کا میانمار سے کوئی تعلق نہیں، جنرل لینگ

راکھین میں صورتحال کو قابو میں لایا جائے، عالمی سلامتی کونسل

روہنگیا عسکریت پسندوں کا دہشت گرد تنظیموں سے روابط سے انکار

انٹونیو گوٹیرش نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ میانمار میں حکمران جماعت کی سیاسی رہنما راکھین میں جاری روہنگیا بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں نوبل امن انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ  وہ ایسے تمام اقدامات کریں، جن کی مدد سے اس بحران کو ختم کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ اعتراف بھی کیا کہ میانمار میں فوج کو، جو عشروں تک اس ملک میں اقتدار میں رہی ہے، ابھی تک ملکی سیاست پر غلبہ حاصل ہے۔ تاہم  انہوں نے کہا کہ اس وقت راکھین میں جو صورت حال پائی جاتی ہے، اگر اس کا رخ نہ بدلا گیا تو مستقبل میں ’’یہی المیہ انتہائی ہولناک ثابت ہو گا۔‘‘

Myanmar - Aung San Suu Kyi

میانمار میں حکمران جماعت کی رہنما آنگ سان سوچی

میانمار: کیا راکھین کا مسلم علاقہ جہادیوں کا نیا گڑھ بن جائے گا؟

میانمار اپنا مسئلہ خود حل کرے، شیخ حسینہ واجد

’روہنگیا اقلیت کی نسل کشی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے‘

راکھین میں اگست کے آخری ہفتے کے آغاز پر ملکی فوج کی متعدد چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر راکھین کے روہنگیا عسکریت پسندوں نے 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا سبب بننے والے بیک وقت جو کئی مربوط حملے کیے تھے، ان کے بعد وہاں فوج نے اپنی کارروائیوں کا آغا زکر دیا تھا۔ اس طرح ایک بار پھر خونریزی کی ایک نئی لہر شروع ہو جانے کے نتیجے میں اب تک وہاں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں بہت بڑی اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی۔ میانمار کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے جن قریب 400 افراد کو ہلاک کیا، وہ روہنگیا عسکریت پسند تھے۔ اس کے علاوہ اسی بدامنی کے دوران وہاں سینکڑوں گھر بھی جلا دیے گئے۔

انٹونیو گوٹیرش نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ عالمی ادارے کی کئی ذیلی امدادی ایجنسیاں بنگلہ دیش میں نئے آنے والے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں  اور ساتھ ہی ان مہاجرین میں نئی بیماریوں کے پھوٹ پڑنے کے امکانات کا سدباب بھی کیا جا رہا ہے۔

Infografik Rohingya Bevölkerung ENG

مختلف ممالک میں روہنگیا مسلم آبادی سے متعلق اندازے

روہنگیا کی اپنے گھروں کو خود جلانے کی تصاویر جعلی نکلیں

بدھا ہوتے تو روہنگیا کی مدد کر رہے ہوتے، دلائی لامہ

پاکستان میں لاکھوں روہنگیا میانمار کے حالات پر تشویش کا شکار

اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف نے جنیوا میں اعلان کیا کہ بنگلہ دیش پہنچنے والے نئے روہنگیا مہاجرین میں سے 60 فیصد بچے ہیں، جنہیں مختلف وبائی امراض سے بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ میانمار کے اندر موجود قریب ڈیڑھ لاکھ روہنگیا مہاجر بچوں کو بھی خسرے اور پولیو جیسی بیماریوں سے بچانے کے لیے ان کی ویکسینیشن کی جائے گی۔

بنگلہ دیش میں یہ لاکھون نئے روہنگیا مہاجرین زیادہ تر راکھین کے ساتھ سرحد پر واقع بنگلہ دیشی ضلع کوکس بازار میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور ڈھاکا حکومت مل کر یہ کاوشیں بھی کر رہے ہیں کہ ان لاکھوں انسانوں کے لیے حفظان صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا جو سالانہ اجلاس منگل انیس ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، اس میں بھی روہنگیا بحران اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہو گا۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

بے وطن روہنگیا مسلمان کہاں جائیں؟

DW.COM

Audios and videos on the topic