1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

روہنگیا بحران کا پائیدار حل تلاش کرنا ہو گا، بھارتی وزیر خارجہ

میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد چھ لاکھ ہو گئی ہے۔ ادھر بھارت نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کی خاطر میانمار کو ان روہنگیا مہاجرین کو واپس اپنے ملک آباد کرنا ہو گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایشیا میں مہاجرین کے اس بدترین بحران کے حل کی خاطر میانمار کو تمام روہنگیا مہاجرین کو واپس لینا ہو گا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد سے ملاقات میں کہا کہ عشروں بعد اس خطے میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے اس بحران کا یہی واحد حل ہے۔

روہنگیا کے خلاف بدھ بھکشوؤں کا مظاہرہ

ہزاروں مزید روہنگیا بنگلہ دیش کے راستے میں ہیں، اقوام متحدہ

میانمار روہنگیا مسلمانوں کو مظالم سے بچانے میں ناکام رہا، اقوام متحدہ

ویڈیو دیکھیے 03:17

روہنگیا مسلمانوں کے لیے بھارتی زمین بھی تنگ ہوتی ہوئی

حسینہ واجد نے سرحدی محافظوں اور متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی جائے اور انہیں کوکس بازار میں قائم کردہ عارضی کیمپوں میں رہائش دی جائے۔

ڈھاکا حکومت کوشش میں ہے کہ وہ ان کیمپوں میں روہنگیا مہاجرین کو ضروری امداد بھی پہنچائے لیکن بنگلہ دیش کو ان افراد کی بڑی تعداد کے باعث انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پچیس اگست سے شروع ہونے والے اس بحران کے نتیجے میں بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ عالمی ادارہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کو ’نسلی تطہیر‘ قرار دے چکا ہے۔

اقوام متحدہ نے ینگون حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس کریک ڈؤان کو فوری طور پر روکا جائے اور ان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے۔

اے پی نے ’یونائیٹڈ نیوز ایجنسی آف بنگلہ دیش‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اتوار کو اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب محمود علی سے ملاقات کے بعد کہا، ’’میانمار کو ہر حالت میں روہنگیا مہاجرین کو واپس لینا ہو گا کیونکہ یہ بنگلہ دیش پر ایک بڑا بوجھ بن رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کب تک اس بوجھ کو برداشت کرے گا؟ اس بحران کا پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت میانمار میں جاری تشدد پر تحفظات رکھتی ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار پر سفارتی دباؤ بڑھائے تاکہ روہنگیا مہاجرین کے بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

عالمی برادری کا بھی مطالبہ ہے کہ میانمار اس بحران کے حل کی خاطر فعال کردار کرے۔ یہ امر اہم ہے کہ میانمار ایسے الزامات مسترد کرتا ہے کہ ملکی سکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم وستم پر مبنی کریک ڈاؤن کر رہی ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic