1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روہنگیا بحران: ’نسل کشی کی کتابی مثال‘ ہے، اقوام متحدہ

 میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے میانمار کی صورتحال کو نسل کشی کی ’’کتابی مثال‘‘ قرار دیا ہے۔

آج پیر 11 ستمبر کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے میانمار کی حکومت پر الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ روہنگیا اقلیت پر منظم انداز میں حملوں میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق ایسا لگ رہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسلی تطہیر جاری ہے۔ رعد الحسین نے انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ینگون حکومت نے انسانی حقوق کے تفتیش کاروں کو رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے اور اسی وجہ سے حالات کا درست جائزہ نہیں لیا جا سکا ہے۔ تاہم صورتحال کو ایک ایسی مثال قرار دیا جا سکتا ہے، جس کی مثال صرف کتابوں میں ملتی ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ایک خط کے ذریعے اس بحران کا پر امن حل تلاش کرنے کا کہا ہے۔ میانمار میں بھی بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں ہیں۔

کیا آنگ سان سوچی سے نوبل امن انعام واپس لے لینا چاہیے ؟

سوچی نے خاموشی توڑ دی’’سب جھوٹ کا پلندہ ہے‘‘

روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں ہے اور ینگون حکومت انہیں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتی ہے۔

میانمار میں روہنگیا کے خلاف پچیس اگست سے شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد سے نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی پر بین الاقوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں زیادہ تر روہنگیا ہیں۔

راکھین ریاست میں جاری اس فوجی کارروائی کی وجہ سے ستائیس ہزار کے لگ بھگ بدھ بھکشو اور ہندو بھی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

ویڈیو دیکھیے 01:57

روہنگیا افراد کے لیے پاکستان میں احتجاجی ریلیاں

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات