روپے کی قدر میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کا نادر موقع | معاشرہ | DW | 12.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روپے کی قدر میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کا نادر موقع

ایک طرف تو پاکستانی بازارِ حصص مندی کا شکار ہے اور دوسری جانب روپے کی قیمت میں حالیہ کچھ روز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے یا فائدہ مند؟

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ کچھ عرصے سے مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز بھی پاکستانی بازارِ حصص کے 100 انڈیکس نے 598 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی اور کاروبار کا اختتام 100انڈیکس نے 38481 پرکیا۔ جب کہ آج 43 پوائنٹس کے معمولی اضافے کے بعد مارکیٹ کا اختتام 38525 پوائنٹس پر ہوا۔

پاکستانی دیہی خواتین، محنت میں برابر لیکن حقوق میں پیچھے

بھاری جرمانہ کیا پاکستانی معیشت کے لیے دھچکا ہے؟

سعودی عرب جانے والے پاکستانی ملازمین کی تعداد میں زبردست کمی

پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں مندی گزشتہ کچھ عرصے سے زیادہ نمایاں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آخر اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ اس بارے میں بات کرتے ہوئے معاشی تجزیہ نگار خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اس وقت اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی سب سے بڑی وجہ سیاسی منظر نامے پر استحکام کی کمی ہے، " 2017 میں آنے والے بجٹ اور اسٹاک مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر پر کچھ نئے لگائے جانے والے ٹیکس اور پھر سیاسی میدان میں پاناما کیس اور اس کے بعد حکومت کے تحلیل ہونے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی کم ہوتی چلی گئی۔ نئی حکومت کے آنے، وزارت خزانہ کا قلم دان کسی کو نہ سونپے جانے، یہ سب پالیسی پر عمل درآمد میں تاخیر کو وجوہات بن رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار فی الحال مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں جھجھک رہے ہیں۔ ان ہی وجوہات کے باعث اب تک اسٹاک مارکیٹ میں 15 ہزار پوائنٹس گر چکے ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔‘‘

تجزیہ نگار خرم شہزاد کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے اب بھی مارکیٹ میں سرمایہ لائے جانے کی امید قائم ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں ہونے والی کمی ہے، ’’اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو وہ اتنے خراب نہیں جتنے سمجھے جاتے ہیں۔ مثلا کچھ عرصہ سے یہ بات کی جا رہی تھی کہ روپے کی قدر میں کمی لائی جائے تاکہ ہمارے جو آؤٹ فلوز ہیں یعنی جو ہماری غیر ضروری درآمدات ہیں جن میں لگثری سامان شامل ہے، ان پر ٹیکس لگایا جائے تاکہ ہمارے غیر ضروری اخراجات کم ہوں اور برآمدات میں اضافہ ہو۔‘‘

واضع رہے کہ پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ آج ڈالر کے مقابلے میں مسلسل تیسرے کاروباری روز بھی روپیہ دباؤ کا شکار رہا اور انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 111 روپے پر پہنچ گئی ۔

روپے کی قدر میں کمی کے باعث کیا فائدہ اور کیا نقصان سامنے آسکتے ہیں، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا ہے، ’’پچھلے چند دنوں سے روپے کی قیمت میں چار سے ساڑھے چار فیصد کمی آئی ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کا آؤٹ فلو رکنے سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہو لیکن اگر ملک کی 15 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو سامنے آئے گا کہ جب بھی ملک میں روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے، ہماری برآمدات کو ایسا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے یہاں اسٹرکچرل مسائل زیادہ ہیں، ہماری مصنوعات کی کوئی خاص پوزیشن نہیں، مارکیٹنگ کمزور ہے، وقت پر ٹیکس ریفنڈ نہیں ملتے، پھر ہم عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کر پاتے۔ تو قدر میں کمی کے باعث ان مسائل کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔ پھر اگر روپے کی قدر میں ایک فیصد کمی ہوتی ہے تو مہنگائی میں تین فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے قرضہ جات جو 83 ارب ڈالر کے قریب ہیں ،اگر روپے کی قدر میں ایک روپے کی بھی کمی ہوتی ہے تو یہ قرض بھی خود بہ خود بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:34
Now live
02:34 منٹ

پاکستانی طلبا اور اعلیٰ تعليم يافتہ افراد کے ليے جرمنی ميں مواقع

روپے کی قدر میں کمی سے چند فوائد کے بارے میں خرم شہزاد کا کہنا ہے، ’’اچھی بات یہ ہے کہ جب مارکیٹ کم لیول پر ہو تو یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش بن جاتی ہے۔ کیونکہ ہماری ویلیوز اچھی ہیں اور مارکیٹ کارپوریٹ سطح پر اچھی پرفارم کرتی نظر آتی ہے اور اس کا منافع ڈبل ڈیجٹس میں نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری مارکیٹس کے مقابلے میں گزشتہ پندرہ برسوں سے یہاں سرمایہ کاروں کو بہت اچھا منافع ملتا رہا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ روپے کی کمی سے اگلے برس آنے والے ملکی انتخابات کے بعد بہت حد تک بہتری نظر آئے گی۔‘‘

روپے کی قدر کو استحکام پر لانے کے لیے اگر اسٹیٹ بینک کا کردار دیکھا جائے تو ملک کے مرکزی بینک کا یہ موقف ہے کہ ڈالر کی قیمت اس کی طلب و رسد کے عین مطابق ہے۔ اس لیے فی الحال روپے کی قدر کے حوالے سے بینک کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic