1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

روٹی ضروری یا ادویات: سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدگان ہنوز کشمکش میں

پاکستان میں گزشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب نے شمال مشرقی صوبے سے لے کر ملک کے جنوبی حصے تک کو جو جانی و مالی نقصان پہنچایا، وہ کافی حد تک اب ایک گزری بات لگنے لگی ہے۔

default

گزشتہ اگست میں آنے والا سیلاب

تقریباً دو ہزار انسانوں کی ہلاکت اور کئی ملین باشندوں کے گھر بار سے محروم ہو جانے کا سبب بننے والے حالیہ سیلاب کے متاثرین کی موجودہ صورتحال پر اب نہ تو مقامی میڈیا میں بات چیت ہو رہی ہے، نہ ہی بین الاقوامی برادری کی توجہ اب اس طرف مبذول ہے۔ تاہم سیلاب سے متاثر ہونے والے دیگر علاقوں کے مقابلے میں صوبوں بلوچستان اور سندھ کے چند اندرونی دیہات میں اب بھی سیلاب کے متاثرین اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اِس پر المیہ یہ کہ ان نہتے انسانوں کی امداد تو کجا، انہیں کافی حد تک بھلا دیا گیا ہے۔ درختوں کے تنوں، جنگلی گھاس اور پلاسٹک شیٹس سے بنے خیموں میں سر چھپانے والے سیلاب زدگان پر مشکلیں اتنی پڑیں کہ زندگی اور موت کا کھیل انہیں آسان لگنے لگا ہے۔ سندھ کے چند گاؤں تو ایسے ہیں، جہاں سردیوں میں لوگ ٹھٹھر رہے ہیں۔ نہ تو ان کے سر پر چھت ہے، نہ ہی اوڑھنے بچھونے کا کوئی بندو بست۔

Überschwemmung in Pakistan Flash-Galerie

صوبہ سندہ کے شہر سکھر کا سیلاب کے بعد کا منظر

سندھ اور بلوچستان کے خیموں اور جھونپڑوں میں، جہاں رات دن خوراک، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی کمی کے سبب بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں، وہیں نئی زندگیاں بھی جنم بھی لے رہی ہیں تاہم نئے بچوں کو دنیا میں لانے والی مائیں کن حالات میں بچے پیدا کر رہی ہیں، یہ وہی چند امدادی کارکن اور ڈاکٹرز جانتے ہیں، جو ان علاقوں میں اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اکثر حاملہ اور زچہ خواتین طبی سہولیات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہی ہیں۔

بلوچستان اور سندھ میں سیلاب آنے سے لے کو اب تک جس غیر سرکاری فلاحی تنظیم نے امدادی کام جاری رکھا ہوا ہے، وہ ہے، پاکستان ریلیف، جس کے صدر مجتبٰی حیدر عمران چند روز قبل ہی سندھ اور بلوچستان کے دورے سے لوٹے ہیں۔ اُن کے بقول ’’پاکستان کے حالیہ سیلاب زدگان کی طبی امداد کے لئے ہماری سب سے زیادہ معاونت جرمن غیر سرکاری ادارے لینڈز ایڈ اور ایکشن میڈیور نے کی۔ اُن کا طبی عملہ ہمارے ساتھ ساتھ اُن علاقوں میں میڈیکل ایڈ فراہم کرتا رہا ہے، جہاں نہ تو حکومت پاکستان اور نہ ہی کسی پاکستانی این جی او کی رسائی تھی۔ ہمارے ساتھ لینڈز ایڈ کے ڈاکٹرز کی ٹیم بذریعہ ہیلی کاپٹر گاؤں گاؤں اور قصبے قصبے جاتی رہی ہے۔ ان دونوں تنظیموں کی طرف سے ہمیں دی گئی ادویات اور طبی ضروریات کی دیگر اشیاء ہمارے پاس اسٹاک میں موجود تھیں، جو ہم اب تک سیلاب زدگان کی امداد کے لئے استعمال کر رہے رہیں۔

Hochwasser in Pakistan

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے کچی آبادی کے مکینوں کی سیلاب کے بعد کی صورتحال

مجتبٰی آپ نے موبائیل میڈیکل کیمپس کا سلسلہ کن کن علاقوں میں جاری رکھا ہوا ہے؟

’ویسے تو ہم نے اپنی موبائیل میڈیکل ٹیم بلوچستان اور سندھ کے متعدد علاقوں میں بھیجی ہے تاہم بلوچستان میں ڈسٹرکٹ جعفر آباد اور سندھ میں شہداد کوٹ کا علاقہ قابل ذکر ہے۔ ہم نے اپنے محدود وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے انہی دو علاقوں میں سیلاب زدگان کو طبی سہولیات فراہم کرنے پر اپنی توجہ مبذول کر رکھی ہے کیونکہ ان علاقوں میں کسی قسم کی سہولیات موجود نہیں ہیں، یہ وہ جگہیں ہیں، جہاں سیلاب سے پہلے بھی صحت کے نظام جیسی کوئی شے وجود نہیں رکھتی تھی۔‘

ان علاقوں میں کون کون سی بیماریاں اس وقت زیادہ خطرات کا باعث بنی ہوئی ہیں؟

’ایک تو گیسٹرو کے حوالے سے ابھی بھی بہت زیادہ شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کی اہم ترین وجہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے۔ معدے کی بیماریوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ جلدی بیماریوں کے کیسز اب بھی بہت زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔ جبکہ سردیاں زوروں پر ہیں اور ہم یہ سمجھے تھے کہ موسم سرما میں جلد کی بیماریوں میں کمی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دراصل یہ علاقہ کاشت کاری اور کھیتی باڑی کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس جگہ استعمال ہونے والی کھاد میں طرح طرح کے کیمیکلز شامل تھے، جو اب سیلاب کے پانی میں مل کر لوگوں کے جسموں کو خراب کر رہے ہیں اور جلدی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ ان لوگوں کے زخم اب تک نہیں بھر پا ئے ہیں۔ اس کے علاوہ سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی نمونیا نے حملہ کر دیا ہے۔ گھاس پھونس سے بنے ہوئے جھونپڑوں میں رات بسر کرنے والے انسانوں کو سردی سے بچانا بہت مشکل ہے۔ نمونیا سب سے زیادہ بچوں میں پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ وہاں ملیریا بھی کثرت سے ہے۔‘

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Flüchtlingslager bei Karachi

امدادی کیمپس میں ادویات کی قلت شروع سے ہی پائی جاتی تھی

گوٹھ حاجی غلام فاروق میں خاص طور سے حاملہ خواتین اور نو زائیدہ بچوں کی صورتحال تشویش ناک بتائی جاتی ہے؟ آپ تو وہاں موجود تھے، آپ آنکھوں دیکھا حال بتائیے؟

’بلوچستان سے متصل علاقے خاص طور سے شہداد کوٹ اور اُس کے آس پاس کے متعدد گوٹھوں میں ابتدا میں ہم کوئی کام نہیں کر پائے تھے، وہاں ہر جانب پانی ہی پانی تھا۔ جب پانی اترنا شروع ہوا تو ہماری میڈیکل ٹیم وہاں گئی۔ اُن علاقوں میں حاملہ اور زچہ خواتین کی صورتحال بہت زیادہ خراب تھی۔ یہ عورتیں نہ تو کسی قریبی قصبے یا شہر کا رُخ کر سکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ٹرانسپورٹ نہیں، دوسرے یہ شہر جا کر علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتیں کیونکہ ان کے پاس کھانے کو نہیں، تو یہ بیچاریاں علاج معالجے یا بچے کی پیدائش پر آنے والے اخراجات کیسے برداشت کر سکتی ہیں۔‘

آخر ان حاملہ خواتین کے بچوں کی تولید کا عمل کس طرح پورا ہوتا ہے اور خاص طور پر سندھ کے چند علاقوں میں تو لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، تو ان خواتین کا یہ نازک وقت کس جگہ گزرتا ہے؟

’جی یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، طبی ٹیم کے لئے بھی۔ کیونکہ بلوچستان اور سندھ کے ان علاقوں میں کوئی لیڈی ڈاکٹر یا مڈ وائف موجود نہیں ہے۔ یہی وہ علاقے ہیں، جہاں کی خواتین اپنے پردے اور حجاب کا بہت زیادہ خیال بھی رکھتی ہیں۔ تاہم جہاں ماں اور بچے، دو زندگیوں کا سوال ہو، وہاں انہیں مرد ڈاکٹروں سے معائنہ کروانا ہی پڑتا ہے۔

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Flüchtlinge Trinkwasser

آلودہ پانی سب سے زیادہ بیماریوں کا سبب بن رہا ہے

زیادہ تر کسی معمر اور تجربہ کار خاتون کو تولیدی مراحل کے وقت تعاون کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ کسی نہ کسی کونے میں کسی چھوٹی سی کوٹھری یا جھونپڑے کے اندر بچے کی ڈلیوری ہوتی ہے۔ ہمارے کیمپوں میں ڈاکٹرز تین سے چار سو تک مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر کیمپ میں دس سے پندرہ حاملہ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔‘

پاکستان ریلیف کے صدر مُجتبیٰ حیدر عمران کا کہنا ہے، ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ سیلاب کے حوالے سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں، یہ بہت جلدی حل نہیں ہوں گے:’’خاص طور پر جن علاقوں میں ہم کام کر رہے ہیں، وہاں طبی سہولیات کی فراہمی میں چھ سے نو ماہ تک کا عرصہ لگے گا، شاید تب جا کر ان سیلاب زدگان کی زندگی کسی ڈگر پر لگ سکے۔ ان لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔‘‘

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس