1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روم کے مشہور زمانہ تریوی فوارے میں ’پانی کے بجائے خون‘

اطالوی دارالحکومت روم میں پائی جانے والی ’کرپشن کے باعث‘ شہر کے مشہور زمانہ تریوی فوارے کا ’پانی خون بن گیا‘ اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس واقعے نے روم کے شہریوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں سیاحوں کو بھی حیران کر دیا۔

default

گراسیانو چیکینی کے 26 اکتوبر 2017ء کو کیے گئے ’احتجاج‘ کا نتیجہ

یورپی یونین کے رکن ملک اٹلی کے دارالحکومت سے جمعہ ستائیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جمعرات چھبیس اکتوبر کو پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا کہ روم کے تاریخی تریوی ’فوارے کا پانی خون میں بدل گیا‘ تھا۔

روم میں خشک سالی، ویٹیکین یکجہتی میں فوارے بند کردے گا

اس واقعے کا ذمے دار روم میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والا ایک ایسا مقامی سماجی کارکن تھا، جس کا نام گراسیانو چیکینی ہے اور جسے ماضی میں بھی ایسا کرنے کی وجہ سے پولیس جانتی ہے۔ روئٹرز نے لکھا ہے کہ دنیا بھر میں مشہور تریوی فاؤنٹین کا پانی سچ مچ خون میں نہیں بدلا تھا بلکہ چیکینی نے پانی میں سرخ رنگ ملا دیا تھا، جس کے بعد دیکھنے میں ایسے لگتا تھا جیسے یہ فوارہ واقعی خون سے بھر گیا ہو۔

اس واقعے کے بعد، جس نے اس فوارے کو دیکھنے کے لیے آنے والے ہزاروں سیاحوں کو حیران کر دیا تھا، پولیس نے ملزم چیکینی کو حراست میں لے لیا۔ اس نے بعد ازاں پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ روم شہر میں کرپشن سے اکتا چکا ہے۔

Italien Rom - Graziano Cecchini färbt das Wasser Rot am Trevi Springbrunnen

گراسیانو چیکینی کی 19 اکتوبر 2007ء کو ’رنگے ہاتھوں‘ لی گئی ایک تصویر

گراسیانو چیکینی نے کہا، ’’میرا یہ فعل ایک چیخ کے مترادف تھا۔ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ایک چیخ کہ روم مرا نہیں ہے، یہ شہر ابھی زندہ ہے اور اسے دوبارہ آرٹ، زندگی اور نشاة ثانیہ کے دارالحکومت کی اپنی حیثیت کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔‘‘

ایسا بھی ہوتا ہے دنیا میں!

فنون لطیفہ اور تاریخی عمارات کے لیے اپنی محبت کا دعویٰ کرنے والے چیکینی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے ’تریوی کے پانی کو خون بنانے‘ کے لیے جو رنگ استعمال کیا، وہ 18 ویں صدی میں تعمیر کردہ اس فوارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

روم کی شہری انتظامیہ تاہم اس ملزم کے موقف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور رنگ ملائے جانے کے بعد اس فوارے سے پانی نکال کر اسے فوراﹰ خشک کر دیا گیا تاکہ ممکنہ نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔

Italien 500000 bunte Bällchen auf der Spanischen Treppe in Rom

گراسیانو چیکینی کی 2008ء میں کی گئی حرکت کی ایک تصویر

بعد ازاں روم کے ڈپٹی میئر لُوکا بَیرگامو نے صحافیوں کو بتایا، ’’اس طرح کی کوئی بھی حرکت نہ صرف مکمل جہالت کا ثبوت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس واقعے کا ذمے دار شہری احساس ذمے داری اور سماجی شعور سے بھی بالکل عاری ہے۔‘‘

دنیا کی چودہ بلند ترین پہاڑی چوٹیاں سر کرنے والا پہلا جوڑا

گراسیانو چیکینی نے اس سے پہلے 2007ء میں بھی ایک بار تریوی فوارے کے پانی میں سرخ رنگ ملا کر اس وقت بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی تھی، جب وہاں سالانہ بین الاقوامی فلمی میلہ شروع ہونے والا تھا۔ اس سال بھی یہ واقعہ اسی روم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے موقع پر دیکھنے میں آیا، جس کا افتتاح کل جمعرات چھبیس اکتوبر کو ہوا۔

ان دونوں واقعات کے درمیان 2008ء میں بھی یہ رومن شہری اپنی ایک عجیب وغریب حرکت کی وجہ سے میڈیا میں سرخیوں کا موضوع بن گیا تھا۔ تب اس نے روم کی بہت مشہور ’ہسپانوی سیڑھیوں‘ سے پلاسٹک کے بنے ہوئے قریب پانچ لاکھ چھوٹے چھوٹے رنگا رنگ گیند نیچے لڑھکا دیے تھے۔ تب یہ لاکھوں گیند دوبارہ جمع کیے جانے تک شہر کے اس حصے کا نقشہ ہی بدل گیا تھا۔

Italien Trevi-Brunnen in Rom

روم کے مشہور زمانہ تریوی فوارے کے ارد گرد ہر وقت سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے

DW.COM