1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روم میں یونانی سفارت خانے کو بھیجے گئے پارسل بم کی تفتیش شروع

اطالوی حکام نے کہا ہے کہ روم میں واقع یونان کے سفارت خانے کو بھیجے جانے والا پارسل بم، اُس انارکسٹ گروہ کی کارروائی معلوم ہوتا ہے، جس نے چلی اور سوئس سفارتخانوں کو اسی طرح سے اپنے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

default

روم میں واقع یونان کا سفارتخانہ

اطالوی پولیس کے اعلیٰ حکام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بم سکواڈ ٹیم نے یونان کے سفارت خانے کو بھیجا جانے والا پارسل بم ناکارہ بنا دیا ہے جبکہ دوسرے مشتبہ پارسل سے دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا، جو وینزویلا کے سفارت خانے کے پتے پر روانہ کیا گیا تھا۔

روم پولیس کے ترجمانSalvatore Cagnazzo نےصحافیوں کو بتایا، ’یونان کے سفارت خانے کو بھیجا گیا پارسل انہی دو پارسل بموں کی طرح تیار کیا گیا تھا، جو گزشتہ ہفتے چلی اور سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانوں کو بھیجے گئے تھے۔‘

اٹلی کے ایک انارکسٹ گروہ نے چلی اور سوئس سفارتخانوں میں بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان پارسل بموں کے دھماکوں کے نتیجے میں دونوں سفارتخانوں میں مجموعی طور پر دو اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد پولیس نے تمام حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی تھی۔

NO FLASH Paketbombe Botschaft Rom Italien

روم میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

اطالوی دارالحکومت روم کے میئر Gianni Alemanno نے بتایا ہے، ’یہاں ایک دہشت گرد گروہ ہے، جو اس طرح کی حرکتیں کر کے عالمی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت روم میں سکیورٹی لیول بڑھا دیا گیا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کو مزید چوکنا کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یونان کے سفارتخانے میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے اس پارسل بم کو کھول لیا تھا تاہم دھماکہ نہ ہوا اور بعد ازاں ماہر ٹیم نے اس پارسل بم کو نارکارہ بنا دیا۔

اٹلی میں تعینات یونانی سفیر نے کہا ہے کہ یہ پارسل جمعہ کے دن موصول ہوا تھا تاہم کرسمس کی چھٹیوں کی وجہ سے اسے پیر تک نہیں کھولا گیا۔ خبررساں ادارے AFP نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد یونان اور اٹلی نے ذمہ دار افراد کا کھوج لگانے کے لئے مشترکہ کوشش کر دی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM