1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

روم میں خشک سالی، ویٹیکین یکجہتی میں فوارے بند کردے گا

اطالوی دارالحکومت روم ان دنوں شدید خشک سالی کا شکار ہے۔ اس موقع پر ویٹیکن نے آئندہ چند دنوں کے لیے اپنے 100فوارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینٹ پیٹرز اسکوائر میں واقعہ دو فوارے جنہیں 17ویں صدی کے اواخر میں معروف مجسمہ ساز کارلو ماڈرنو اور گیلان لورینزو بیرنینی نے تیار کیا، ان 100 فواروں میں شامل ہیں جنہیں آئندہ چند روز میں بند کر دیا جائے گا۔

ویٹیکن سٹی اطالوی دارالحکومت روم میں واقع ہے جو رواں برس پڑنے والی حبس زدہ گرمی اور اوسط سے کم بارشوں کے سبب ان دنوں خشک سالی کا شکار ہے۔

Italien Papst Franziskus (Reuters/R. Casilli)

2015ء میں جاری ہونے والی ایک دستاویز میں پوپ فرانسس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں

ویٹیکن کے ترجمان گریک بُرکے نے ان دو انتہائی معروف فواروں کے سامنے کھڑے ہو کر روئٹرز ٹیلی وژن کو بتایا، ’’روم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہ ویٹیکن کا طریقہ ہے اور بحران سے نکلنے کے لیے روم کی مدد کرنے کی کوشش۔‘‘

بُرکے کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں آباد 1.2 ارب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی مرکز ویٹیکین کی یادداشت میں یہ پہلا موقع ہے کہ فواروں کو بند کیا جا رہا ہے۔

ماحولیات پر ویٹیکن کی توجہ

پوپ کے دفتر سے خاص طور پر ماحولیات کے موضوع پر 2015ء میں جاری ہونے والی ایک دستاویز میں پوپ فرانسس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فی الفور اقدامات کریں۔ اس دستاویز میں عالمی ماحولیات کو درپیش خطرات کا بھی احاطہ کیا گیا تھا۔

ویٹیکن کے ترجمان گریگ بُرکے کے مطابق، ’’یہ فیصلہ ماحولیات کے حوالے سے پوپ کی سوچ کے عین مطابق ہے کہ آپ کسی بھی شے کو ضائع نہیں کر سکتے اور بعض اوقات آپ کو قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘

روم میں موجودہ خشک سالی کے باعث حکام کو مجبوراﹰ پینے کے پانی کے فوارے بھی بند کرنا پڑے ہیں۔ اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے وہ پانی کا کوٹہ مقرر کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

Italien Kolonnaden am Petersplatz in Rom (picture-alliance/Arco Images/I. Gercelman)

17ویں صدی کے اواخر میں معروف مجسمہ ساز کارلو ماڈرنو اور گیلان لورینزو بیرنینی کے تیار کردہ فوارے بھی ان 100 فواروں میں شامل ہیں جنہیں آئندہ چند روز میں بند کر دیا جائے گا

موسم کے حوالے سے اطالوی ٹیلی وژن اسکائی کے مطابق رواں ماہ یعنی جولائی کے دوران روم میں معمول کی نسبت 72 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ اس سے قبل جون میں بھی معمول سے 74 فیصد کم بارش ہوئی۔ جبکہ مارچ سے مئی کے دوران بارش کی مقدار میں کمی اوسط کے مقابلے میں کمی 54 فیصد رہی تھی۔

دارالحکومت روم کے علاوہ اٹلی کے دیگر علاقے بھی کم بارشوں کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین موسمیات کے مطابق گزشتہ 60 برسوں کے عرصے میں 2017 بحیرہ روم کے کنارے آباد اس ملک کا تیسرا خشک ترین سال ہے۔

DW.COM